رسائی کے لنکس

logo-print

یورپی یونین کی روس کے خلاف پابندیوں میں توسیع کا امکان نہیں


یورپی یونین کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے مطابق پابندیوں پر بحث کی جائے گی مگر اکثریت ان کی تجدید جولائی تک مؤخر کرنا چاہے گی۔

یورپی یونین کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے کہا ہے کہ آئندہ ہفتے یورپی لیڈروں کے ایک اجلاس میں روس کے خلاف پابندیوں میں توسیع پر اتفاقِ رائے ہونے کا امکان نہیں ہے۔ یاد رہے کہ روس کے خلاف پابندیوں کی معیاد جون میں ختم ہو رہی ہے۔

یہ امکان اس لیے بھی نہیں کیونکہ یورپی حکومتیں یوکرین میں جنگ بندی کے ایک "نازک معاہدے" کو ایک موقع دینا چاہتی ہیں۔

28 ارکان پر مشتمل یورپی یونین کے بعض ممالک نے روس کے خلاف مالی، توانائی اور دفاع کے شعبوں میں پابندیوں میں توسیع پر جلد فیصلہ کرنے پر زور دیا تھا۔ روس کی طرف سے یوکرین کے علاقے کرائمیا پر قبضے اور مشرقی یوکرین میں علیحدگی پسندوں کی حمایت کی پاداش میں یہ پابندیاں گزشتہ سال جولائی میں لگائی گئی تھیں۔

یورپی یونین کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے مطابق پابندیوں پر بحث کی جائے گی مگر اکثریت ان کی تجدید جولائی تک مؤخر کرنا چاہے گی۔

سلوواکیہ کے وزیرِاعظم رابرٹ فیکو نے جمعے کو کہا تھا کہ روس پر پابندیوں کی تجدید یا نئی پابندیاں جنگ بندی کو مؤثر بنانے میں مددگار ثابت نہیں ہوں گی۔

امریکہ نے بدھ کو آٹھ یوکرینی علیحدگی پسندوں اور ایک روسی بینک پر پابندیاں عائد کرنے کے علاوہ یوکرین کے لیے مزید امداد کا اعلان کیا تھا۔ امریکہ نے روس نواز علیحدگی پسندوں پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ یورپی یونین کی ثالثی سے کی گئی جنگ بندی کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔

یورپی یونین پابندیوں کے معاملے پر تقسیم ہے۔ ماضی میں بھی سلوواکیہ کے وزیرِاعظم نے پابندیوں کو ’’بے معنی اور نقصان دہ‘‘ قرار دیا تھا۔

جمعے کو یورپی حکومتوں نے 150 یوکرینی اور روسی افراد اور37 کمپنیوں کے خلاف پابندیوں میں مزید چھ ماہ کی توسیع کا فیصلہ کیا تھا۔ ان کے خلاف یوکرین کی خود مختاری، علاقائی سلامتی اور آزادی کو کمزور کرنے کا الزام تھا۔

XS
SM
MD
LG