رسائی کے لنکس

کرونا وائرس: یورپی یونین کا امریکی سیاحوں پر سفری پابندی بحال کرنے پر غور


پیرس کے ایک فیشن اسٹور پر سیاحوں کا ہجوم۔ فائل فوٹو

یورپی یونین کے حکام کا کہنا ہے کہ امریکہ میں حالیہ ہفتوں میں کرونا وائرس کے کیسز میں اضافے کے پیش نظر یورپی بلاک اپنے رکن ممالک سے امریکی سیاحوں پر سفری پابندی بحال کرنے کی سفارش کر سکتا ہے۔

یورپی یونین کے اہل کاروں نے یہ بات نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر رپورٹروں کو بتائی کیونکہ یورپی یونین کی سفری پالیسی پر ابھی غور جاری ہے۔

حکام کے مطابق اگر امریکی سیاحوں کے یورپ میں داخلے پر پابندی کی سفارش کی جاتی ہے تو اسی ہفتے امریکہ کو ان ممالک کی "محفوظ فہرست" سے ہٹا دیا جائے گا جن کے شہریوں کو قرنطینہ اور کووڈ نائنٹین کے ٹیسٹ کرائے بغیر یورپ کے 27 ممالک میں سفر کرنے کی اجازت ہے۔

خیال رہے کہ سفری پابندیوں کی سفارش یورپین کونسل کی جانب سے کی جاتی ہے جو کہ ہر پندرہ دن کے بعد سفری فہرست کا تازہ ترین حالات کی روشنی میں جائزہ لیتی ہے۔

تاہم یورپی یونین کےرکن ممالک کے لیے کونسل کی سفارش کردہ پابندیوں کو نافذ کرنا لازمی نہیں ہوتا۔

یورپ میں اس وقت کوئی یکساں یا ایک جیسی سفری پالیسی کا نفاذ نہیں ہے اور رکن ممالک اس سلسلے میں اپنے اپنے قواعد و ضوابط کو آزادانہ طور پر بنانے کا حق رکھتے ہیں۔

یاد رہے کہ رواں سال جون میں یورپی یونین نے امریکہ سے آنے والے مسافروں پر پہلے سے عائد پابندیاں اٹھا دی تھیں۔ البتہ یورپی مسافروں پر امریکہ آنےکی پابندیاں بدستور برقرار ہیں۔

یورپی یونین کے وضع کردہ قواعد کے مطابق دوسرے ممالک کے اس کی "محفوظ سفری فہرست" پر رہنے کی شرط یہ ہے کہ اس ملک میں ہر ایک لاکھ باشندوں میں سفر سے دو ہفتے قبل تک 75 سے زائد نئے کیسز رپورٹ نہ ہوئے ہوں۔

امریکہ کے امراض پر قابو پانے کے محکمے سی ڈی سی کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق اس وقت امریکہ میں ہر ایک لاکھ نفوس میں تین سو سے زیادہ نئے کیس سامنے آ رہے ہیں۔

گزشتہ ہفتے ملک میں روزانہ اوسطاً ڈیڑھ لاکھ نئے کیسز سامنے آ رہے تھے۔ اس تعداد نے رواں سال کے پہلے دو مہینوں جنوری اور فروری کی بلند ترین شرح کی یاد دلا دی ہے۔

امریکہ میں کووڈ نائنٹین سے متاثرہ لوگوں کے اسپتالوں میں زیر علاج ہونے کی تعداد بھی ایک لاکھ تک پہنچ گئی ہے جو کہ اس سال فروری کے مہینے کی بلند شرح کے قریب رہی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG