رسائی کے لنکس

logo-print

ہنگری نے سرحد بند کر دی، تارکین وطن کی سربیا آمد


ہنگری نے کروئیشیا کے ساتھ اپنی سرحد کو پوری طرح سے بند کر دیا تھا جس کے بعد کروئیشیا کا کہنا تھا کہ وہ تارکین وطن کو سربیا کی طرف منتقل کرنے کا منصوبہ شروع کر رہا ہے۔

ہنگری کی طرف سے کروئیشیا کے ساتھ اپنی سرحد بند کیے جانے کے بعد کروئیشیا سے تارکین وطن سے بھری پہلی بس ہفتہ کی صبح پڑوسی ملک سربیا پہنچی ہے۔

سربیا پولیس کے ترجمان کے مطابق یہ بس سرحدی گزرگارہ تک پہنچی جہاں اس پر سوار لوگوں کے اندراج کا مرحلہ شروع کر دیا گیا ہے۔ تاحال لوگوں کی تعداد کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا۔

جمعہ کو دیر گئے ہنگری نے کروئیشیا کے ساتھ اپنی سرحد کو پوری طرح سے بند کر دیا تھا جس کے بعد کروئیشیا کا کہنا تھا کہ وہ تارکین وطن کو سربیا کی طرف منتقل کرنے کا منصوبہ شروع کر رہا ہے۔

ادھر سلوینیا نے بھی کروئیشیا کے لیے اپنی تمام ریلوے ٹریفک کو منسوخ کر دیا ہے۔

مشرق وسطیٰ، افریقہ اور افغانستان سے ہزاروں کی تعداد میں لوگ جنگوں اور غربت سے تنگ آکر یورپ کا رخ کر رہے ہیں اور حالیہ مہینوں میں ان کی بڑھتی ہوئی تعداد نے یورپ کو ایک بحرانی کیفیت سے دوچار کر دیا ہے۔

یہ لوگ پرخطر سمندری سفر کر کے یورپ پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں جن میں اکثر اپنی جان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔

جمعہ کو بھی ایک خاتون اور چار بچے اپنی ربڑ کی کشتی پر سوار یونان پہنچنے کی کوشش میں ساحل کے قریب ڈوب گئے جن میں سے ایک بچہ تاحال لا پتا ہے۔

رواں سال اب تک چار لاکھ افراد یونان کے ساحلوں تک پہنچ چکے ہیں۔

یورپی یونین تارکین وطن کو اپنے ہاں آباد کرنے کے معاملے پر بھی منقسم نظر آتی ہے جب کہ اس نے ایک منصوبہ تیار کیا ہے جس میں ترکی کو مختلف مراعات اور آسانیاں دینے کے عوض اسے اس بات پر راضی کرنا ہے کہ وہ اپنے ہاں سے گزر کر یورپ آنے والے تارکین وطن کو روکنا ہو گا۔

تاحال ترکی کی طرف سے اس منصوبے پر آمادگی ظاہر نہیں کی گئی ہے۔

XS
SM
MD
LG