رسائی کے لنکس

logo-print

یورپ: آتش فشاں کی راکھ کے اثرات سے نکلنے کی کوشش


ایسے میں جب کہ یورپ آتش فشاں پہاڑ کے پھٹنے کے نتیجے میں فضا میں پھیلنے والے راکھ کے بادلوں کی وجہ سے بند ہونے والے ہوائی اڈوں کو دوبارہ کھولنے کی کوشش کررہاہے،یورپی اقتصادی ماہرین اور سیاست دانوں نے معیشت پر اِس کے اثرات کا جائزہ لینا شروع کردیاہے۔

یورپی کمیشن کے سربراہ ہوزے مینوئل بروسو نے علاقائی معیشت پر راکھ کے اِن بادلوں کے اثرات کا ایک ٹھوس جائزہ لینے کے احکامات دے دیے ہیں ، تاہم اِس کے کچھ اثرات بالکل واضح ہیں۔

گذشتہ چند دنوں کے دوران تقریباً 30 یورپی ملکوں میں فضائی سفر کی مکمل یا جزوی بندش سے ایئر لائن اور سیاحت کی صنعت پر بہت برا اثر پڑا ہے۔ ایئر لائن کمپنیوں کا کہنا ہے کہ اُنہیں روزانہ لگ بھگ 27 کروڑ ڈالر کا نقصان ہورہاہے۔

لندن میں قائم سینٹر فار یورپین ریفارم کے اقتصادی امورکے سربراہ سائمن ٹل فورڈ کا کہنا ہے کہ یونائیٹڈ پارسل سروسز جیسی کمپنیوں کے ساتھ ساتھ انشورنس اور ایئر فریٹ کمپنیاں بھی متاثر ہورہی ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ دراصل سب سے زیادہ خطرہ ، مالی طور پر کچھ سب سے کمزور کمپنیوں کو ہورہاہے۔ اس لیے اگر ہم مصنوعات کے برآمدکرنے والوں کو اپنے سامنے رکھیں جن کی زیادہ تر برآمدات مشرقی افریقہ سے یورپ اور امریکہ بھیجی جاتی ہیں ، تو وہ سب سے زیادہ متاثر ہورہے ہیں۔

یورپی یونین کے عہدے دار مسئلے کا حل تلاش کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ یورپی یونین کے ٹرانسپورٹ کے وزرا پیر کی رات اس مسئلے پر ایک ویڈیو کانفرنس کررہے ہیں۔ یورپی یونین کے ٹرانسپورٹیشن کمشنر سیم کیلاس کہتے ہیں کہ راکھ کے یہ بادل ائیر لائن انڈسٹری کے لیے ، اقتصادی طورپر اس سے بڑے نقصان کا سبب بن سکتے ہیں جتنا کہ امریکہ کو ستمبر 2001ء کے حملوں سے پہنچا تھا۔

وہ کہتے ہیں کہ یہ ایک ایسا واقعہ ہے جس کی اس سے پہلے کوئی مثال موجود نہیں ہے۔ اتنے بڑے فضائی راستوں کا مکمل طورپر بند ہوجانا ، یہ اتنا بڑا مسئلہ ے کہ اسے فوری طورپر حل کرنا بہت آسان نہیں ہوسکتا۔

اسی دوران فضائی سفر کی صنعت سے متعلق ایک گروپ آئی اے ٹی اے نے کچھ فضائی راستوں کو کھولنے کی اجازت کے سلسلے میں مزید لچک دکھانے کا مطالبہ کیا ہے۔

راکھ کے یہ بادل کتنے بڑے پیمانے پر اور کس حد تک مفلوج کرسکتے ہیں، اس کا انحصار اس چیز پر ہوگا کہ یہ سلسلہ کتنا طول کھینچےگا اورا س سے کتنے ملک متاثر ہوں گے۔لیکن تجزیہ کار ٹل فورڈ اس بارے میں شکوک و شہبات کا اظہار کرتے ہیں کہ مالیاتی بحران کے بعد یورپ کی اقتصادی بحالی کے عمل پر اس کے سنگین اثرات پڑ سکتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ اگر یہ سلسلہ کئی ہفتوں یا کسی مہینوں تک بھی چلا تو بھی اس کے یورپی معیشت پر کوئی بہت زیادہ منفی اثرات نہیں پڑیں گے۔ لیکن میرانہیں خیال کہ یہ اتنا زیادہ طول کھینچے گا۔

اور کچھ شعبوں کو پروازوں کے اس بحران سے فی الواقع فائدہ پہنچ رہا ہے۔ اور وہ ہیں بس اور ریل کے شعبے۔اوران کے ساتھ ساتھ ہوٹلوں کو بھی فائدہ پہنچ رہاہے ، جومسافروں سے بھرے ہوئے ہیں۔

XS
SM
MD
LG