رسائی کے لنکس

logo-print

سات یورپی ملک عراق میں کرد فورسز کو اسلحہ دیں گے: امریکہ


پینٹاگون کے ایک بیان کے مطابق برطانیہ، کینیڈا، البانیا، کروایشیا، ڈنمارک، اٹلی اور فرانس کردوں کو "ہنگامی بنیادی پر درکار" اسلحہ اور دیگر سازوسامان دیں گے۔

امریکہ کے وزیر دفاع چک ہیگل کا کہنا ہے کہ سات یورپی ملکوں نے اتفاق کیا ہے کہ وہ شمالی عراق میں اسلامک اسٹیٹ کے انتہا پسندوں کے خلاف کرد فورسز کو اسلحہ فراہم کرنے میں امریکہ کا ساتھ دیں گے۔

پینٹاگون کے ایک بیان کے مطابق برطانیہ، کینیڈا، البانیا، کروایشیا، ڈنمارک، اٹلی اور فرانس کردوں کو "ہنگامی بنیادی پر درکار" اسلحہ اور دیگر سازوسامان دیں گے۔

اسلامک اسٹیٹ کے شدت پسندوں نے جون میں کارروائیاں کرتے ہوئے عراق کے شمال اور مغرب میں بہت سے علاقوں پر قبضہ کر لیا تھا۔ رواں ماہ کے اوائل میں انھوں نے کرد فورسز کو ان علاقوں سے خطے کے دارالحکومت اربیل کی طرف دھکیل دیا تھا۔

منگل کو نیم خودمختار کرد خطے کے صدر مسعود بارزانی نے ایران کے وزیرخارجہ محمد جواد ظریف نے ملاقات کی۔

بارزانی نے اربیل میں ان کے ہمراہ گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ایران وہ پہلا ملک ہے جس نے اسلامک اسٹیٹ کی شدت پسندانہ کارروائیوں کے خلاف کرد جنگجووں کو عسکری امداد فراہم کی۔

دوسری طرف گہرے مسلکی اختلاف رکھنے والے ملک ایران اور سعودی عرب کے اعلیٰ سفارتکاروں کے درمیان بھی ملاقات ہوئی ہے جس میں اسلامک اسٹیٹ کے شدت پسندوں کے خطرے سے متعلق بات چیت کی گئی۔

ایران کے نائب وزیرخارجہ نے اس بات چیت کو "مثبت اور تعمیری" قرار دیا۔

ایرانی نائب وزیرخارجہ حسین امیر عبداللہ کا جدہ کا دورہ گزشتہ سال حسن روحانی کے ایرانی صدر منتخب ہونے کے کسی بھی اعلیٰ عہدیدار کا سعودی عرب کا پہلا دورہ تھا۔

صدر روحانی یہ بات کا عزم ظاہر کر چکے ہیں کہ وہ عرب ممالک کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات کو فروغ دیں گے۔

XS
SM
MD
LG