رسائی کے لنکس

logo-print

یورپی یہودیوں پر حملوں کے خدشات میں اضافہ


یورپ میں بسنے والے یہودیوں کی ایک تنظیم نے خبردار کیا ہے کہ ایران کی جوہری تنصیبات پر اسرائیل کے حملوں کی صورت میں یورپ میں یہودیوں کے خلاف پرتشدد واقعات میں ڈرامائی اضافہ ہوسکتا ہے۔

مغربی ممالک کااصرار ہے کہ ایران خفیہ طور پر جوہری ہتھیار تیار کرنے کی کوششیں کر رہا ہے لیکن تہران حکومت اس الزام کی تردید کرتی آئی ہے۔ تہران کی تردید باوجود اسرائیل جوہری ہتھیاروں سے لیس ایران کو اپنی بقا کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے کئی بار دھمکی دے چکا ہے کہ وہ ایران کو جوہری قوت بننے سے روکنے کے لیے اس کی جوہری تنصیبات پر حملہ کرسکتا ہے۔

لیکن 'یورپین جیوئش کانگریس' نامی یہودی تنظیم کے صدر موشے کنٹور نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل نے اپنی دھمکی پر عمل کیا تو غربت میں زندگی گزارنے والے یورپی مسلمانوں کا کوئی مختصر گروہ اشتعال میں آکر مقامی یہودیوں کو نشانہ بنا سکتا ہے۔

روسی نژاد سوئس تاجر کنٹور کے بقول اس نوعیت کے حملے ہونے کا زیادہ امکان فرانس اور برطانیہ میں ہے جہاں یورپی یہودیوں کی سب سے بڑی تعداد آباد ہے۔

کنٹور کا کہنا ہے کہ ان کی تنظیم یورپی حکومتوں کو آمادہ کر رہی ہے کہ وہ اپنی حدود میں آنے والی یہودی بستیوں کی حفاظت کے لیے مزید اقدامات کریں۔

ان کے بقول تنظیم کی بیشتر کوششوں کا محور یورپ کی ان مسلم آبادیوں میں یہودیوں کے خلاف پائی جانے والی نفرت کو ختم کرنا ہے جہاں نسبتاً سخت گیر نظریات کے حامل مسلمان مقیم ہیں۔

واضح رہے کہ 'یورپین جیوئش کانگریس' یورپ میں بسنے والے 25 لاکھ کے لگ بھگ یہودیوں کی نمائندگی کرنے والی مختلف تنظیموں کا اتحاد ہے۔

XS
SM
MD
LG