رسائی کے لنکس

logo-print

تارکینِ وطن کی کشتی ڈوبنے کے بعد امدادی کارروائیاں جاری


اٹلی کے وزیرِ اعظم میٹیو رینٹسی نے بتایا کہ تارکین وطن کو بچانے کی کوششوں میں 18 بحری جہاز حصہ لے رہے ہیں۔

اٹلی کے امدادی کارکنوں نے پیر کو بھی بحیرہ روم میں کشتی ڈوبنے کے سب سے مہلک واقعے کے بعد ممکنہ طور پر بچ جانے والوں کی تلاش جاری رکھی۔ اس حادثے کے بعد یورپی یونین پر غیر قانونی تارکین وطن کے بڑھتے ہوئے بحران پر قابو پانے کے لیے فیصلہ کن قدم اٹھانے کے لیے دباؤ بڑھا ہے۔

لیبیا کے ساحل سے 70 میل دور بحیرہ روم میں ایک 20 میٹر طویل کشتی الٹنے سے 700 کے قریب تارکینِ وطن کے ہلاک ہونے کا خدشہ ہے۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ایک بڑا تجارتی بحری جہاز اس کے قریب سے گزر رہا تھا۔

اس افسوس ناک واقعہ میں مرنے والوں کی تعداد کی تصدیق ہونے کے بعد اس سال یورپ پہنچنے کی کوشش میں اب تک مرنے والوں کی تعداد 1500 ہو جائے گی۔

اٹلی کے وزیرِ اعظم میٹیو رینٹسی نے بتایا کہ تارکین وطن کو بچانے کی کوششوں میں 18 بحری جہاز حصہ لے رہے ہیں، مگر گزشتہ رات تک صرف 28 افراد کو بچایا جا سکا جبکہ پانی سے 24 لاشیں نکالی گئیں تھیں۔

خبررساں ادارے ’رائیٹرز‘ کے مطابق امدادی کارکنوں نے زندہ بچ جانے والوں کو ڈھونڈنے کے لیے رات گئے تک کام جاری رکھا۔

اتوار کو حادثے کی خبر کے بعد اٹلی کے متعدد سرکاری عہدیداروں نے ہنگامی اجلاس میں شرکت کی جبکہ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ فیڈیریکا موگیرینی نے کہا کہ وہ پیر کو لیگزمبرگ میں ہونے والے وزرائے خارجہ کے ایک اجلاس میں امیگریشن بحران کے بارے میں بات کریں گے۔

موگیرینی نے اتوار کو ایک بیان میں کہا کہ ’’ہم کئی مرتبہ کہہ چکے ہیں کہ ایسا آئندہ کبھی نہیں ہو گا۔ اب وقت آگیا ہے کہ یورپی یونین بنا کسی تاخیر کے ان واقعات پر قابو پائے۔‘‘

اتوار کو ہنگامی اجلاس کے بعد اٹلی کے وزیرِ اعظم رینٹسی نے کہا کہ زندگیوں کو بچانے کے لیے تلاش اور بچاؤ کی کارروائیاں کافی نہیں۔ انہوں نے انسانی سمگلنگ اور کشتیوں کو لیبیا سے روانہ ہونے سے روکنے کے لیے بین الاقوامی کوششوں کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے رات گئے یہ بھی کہا تھا کہ ’’اٹلی نے یورپی کونسل کا غیر معمولی اجلاس جلد طلب کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔‘‘

اٹلی کے کوسٹ گارڈ کے مطابق الٹنے والی کشتی میں سینکڑوں افراد کے سفر کی گنجائش تھی اور ایک بچ جانے والے شخص نے بتایا کہ 950 افراد اس پر سوار تھے، جبکہ ایک دوسرے شخص نے کہا کہ 700 تارکینِ وطن سوار تھے۔

امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ بہت سے مرنے والے سمندر کی تہہ میں کشتی کے اندر پھنسے ہیں جہاں غوطہ خوروں کا جانا مشکل ہے کیونکہ اس جگہ سمندر بہت گہرا ہے۔ اس لیے مرنے والوں کی حتمی تعداد کا اندازہ لگانا تقریباً ناممکن ہے۔

اتوار کے المناک حادثے کے بعد فرانس، اسپین، جرمنی، یونان اور برطانیہ نے بھی مشترکہ کوششوں کے لیے فیصلہ کن اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔

پوپ فرانسس نے بھی سینٹ پیٹرز اسکوائر میں اپنے ہفتہ وار خطاب میں بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ ایسے حادثات روکنے کے لیے فوری اقدامات کرے۔

انہوں نے کہا کہ وہ" ہم جیسے مرد اور عورتیں ہیں، ہمارے بھائی ہیں جو بھوکے ہیں، مظالم، تکالیف اور استحصال کا شکار ہیں، اور بہتر زندگی کی تلاش میں ہیں۔ وہ خوشی کی تلاش میں ہیں۔ میں آپ سب کو ان بہنوں اور بھائیوں کے لیے دعا کی دعوت دیتا ہوں۔‘‘

اس سال 35,000 تارکینِ وطن یورپ پہنچ چکے ہیں جبکہ 900 کے لگ بھگ اس کوشش میں ہلاک ہو چکے ہیں۔

XS
SM
MD
LG