رسائی کے لنکس

یورپی پارلیمنٹ میں بھارت کے متنازع شہریت ایکٹ کے خلاف قراردادیں پیش


شہریت کے متنازع بھارتی قانون کے خلاف ملک بھر میں مظاہرے ہو رہے ہیں، حیدرآباد میں ہونے والا ایک بڑا احتجاج۔ 16 جنوری 2020

یورپی پارلیمان کے پانچ گروپوں نے بھارت کے متنازع شہریت ترمیمی ایکٹ (سی اے اے) کے خلاف پانچ قراردادیں پیش کی ہیں جن میں اس قانون کو خطرناک اور عوام کو باٹنے والا قرار دیا گیا ہے۔ ان قراردادوں پر 29 اور 30 جنوری کو بحث اور ووٹنگ ہو گی۔

دو قراردادوں میں کہا گیا ہے کہ سی اے اے شہریت کے تعین کے طریقے میں خطرناک تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے اور اس سے دنیا میں بے وطنی کا سب سے بڑا بحران پیدا ہو جائے گا۔

ان پانچ گروپوں میں 751 رکنی یورپی پارلیمان کے 559 ارکان شامل ہیں۔

ایک قرارداد میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ قانون سے مسلمانوں کو الگ رکھا گیا ہے جس کی وجہ سے عالمی سطح پر بھارت کی ساکھ اور داخلی استحکام کے حوالے سے منفی نتائج برآمد ہوں گے۔

ایک دوسری قرارداد میں پناہ گزینوں سے متعلق پالیسی میں مذہبی پیمانہ اختیار کیے جانے کی مذمت کی گئی ہے۔

ایک گروپ کی جانب سے جس میں 66 ارکان پارلیمان شامل ہیں، پیش کردہ قرارداد میں سی اے اے کی حمایت کی گئی ہے لیکن اس کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سیکیورٹی فورسز کی جانب سے طاقت کے زیادہ استعمال کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔

یہ قراردادیں ایسے وقت پیش کی گئی ہیں جب دو ماہ سے بھی کم مدت میں، یعنی 13 مارچ کو وزیر اعظم نریندر مودی انڈیا یورپی یونین سربراہ کانفرنس میں شرکت کے لیے برسلز جانے والے ہیں۔

ملک کے ایک سرکردہ تھنک ٹینک انسٹی ٹیوٹ آف آبجکٹیو اسٹڈیز کے چیئرمین ڈاکٹر محمد منظور عالم نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ شہریت کے متنازع قانون کے خلاف پوری دنیا میں مظاہرے ہو رہے ہیں لیکن حکومت کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی ہے۔

ان کے مطابق فسطائی حکومتیں اپنے ایجنڈے پر کام کرتی ہیں اور انھیں دوسروں کی مخالفت سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ یہ حکومت بھارت کو ایک ہندو اسٹیٹ بنانے کی راہ پر گامزن ہے۔

حکومت کے ذرائع نے اپنے رد عمل میں کہا کہ سی اے اے بھارت کا پوری طرح سے داخلی معاملہ ہے۔ ہمیں امید ہے کہ ان قراردادوں کا مسودہ تیار کرنے اور ان کی حمایت کرنے والے اگلا قدم بڑھانے سے قبل حقائق جاننے کے لیے ہم سے رابطہ قائم کریں گے۔

حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ یورپی یونین کو ایسی کارروائی نہیں کرنی چاہیے جو دنیا کے دیگر خطوں میں جمہوری طریقے سے منتخب حکومتوں کے حقوق و اختیارات پر سوال اٹھائے۔ یہ قانون مقررہ عمل اور پارلیمان کے دونوں ایوانوں میں بحث و مباحثے کے بعد اختیار کیا گیا ہے۔

اس سے قبل وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمار نے بھی اسے بھارت کا داخلی معاملہ قرار دیا اور کہا کہ چند ممالک کو چھوڑ کر بیشتر ملکوں نے اسے بھارت کا اندرونی معاملہ تسلیم کیا ہے۔

یاد رہے کہ اس قانون کے تحت پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان سے بھارت آنے والے مسلمانوں کو یہاں کی شہریت دینے سے انکار کیا گیا ہے۔

اس قانون کے خلاف پورے ملک میں اور دنیا کے دیگر ملکوں میں بھی احتجاج کیا جا رہا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG