رسائی کے لنکس

logo-print

نیشنل سیکیورٹی ایکٹ: نئی دہلی کی پولیس کو تین ماہ کے لیے خصوصی اختیارات


فائل فوٹو

بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں پولیس کو نیشنل سیکیورٹی ایکٹ (این ایس اے) کے تحت تین ماہ کے خصوصی اختیارات دے دیے گئے ہیں۔

بھارتی اخبار 'دی ہندو' کی رپورٹ کے مطابق وزارت داخلہ کے جاری کردہ احکامات کے تحت دہلی کے پولیس کمشنر کو 1980 کے قانون این ایس اے کے 19 جنوری سے 18 اپریل تک خصوصی اختیارات تفویض کیے گئے ہیں۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ این ایس اے کے تحت پولیس کسی بھی شخص کو ملک کی سیکیورٹی یا امن عامہ کے لیے خطرہ محسوس کرے تو اس کو کئی ماہ تک حراست میں رکھ سکتی ہے۔

دہلی پولیس کے مطابق وزارت داخلہ کے جاری کردہ احکامات عمومی کارروائی ہے اس کا حالیہ صورت حال سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

خبر رساں ادارے 'دی پرنٹ' کے مطابق قواعد کے تحت این ایس اے کے اطلاق کے لیے تین ماہ کے احکامات جاری ہوتے ہیں تاہم موجودہ حکومت نے جولائی 2019، اکتوبر 2019 اور حالیہ احکامات جاری کیے ہیں۔

'دی پرنٹ' کی رپورٹ کے مطابق اس قانون کے تحت سیکیورٹی ادارے کسی بھی مشتبہ شخص کو 10 ماہ سے ایک سال کے لیے حراست میں رکھ سکتے ہیں۔

قانون سیکیورٹی اہلکاروں کو اس بات کی بھی اجازت دیتا ہے کہ وہ 10 روز تک زیر حراست شخص کو اس کے جرم یا الزام سے آگاہ نہ کریں۔

نیشنل سیکیورٹی ایکٹ کے تحت زیر حراست شخص اپنی گرفتاری کے خلاف ہائی کورٹ کے مشاورتی بورڈ میں اپیل دائر کر سکتا ہے تاہم اسے وکیل کی معاونت کی اجازت نہیں ہوتی۔

شہریت قانون کے خلاف خواتین کا مظاہرہ
please wait

No media source currently available

0:00 0:02:24 0:00

واضح رہے کہ اس قانون پر شدید تنقید کی جاتی رہی ہے کیونکہ اس قانون کے تحت کسی بھی شخص کا یہ بنیادی حق ختم ہو جاتا ہے کہ اس حراست میں لیے جانے کے بعد اس پر عائد الزام سے آگاہ نہیں کیا جاتا۔

بھارت میں 11 دسمبر کو دونوں ایوانوں سے منظور ہونے والے متنازع شہریت قانون کے خلاف ملک بھر میں احتجاج جاری ہے۔ جب کہ اس احتجاج کا مرکز اب دہلی بن چکا ہے جہاں مسلسل مظاہرے ہو رہے ہیں جب کہ مستقل احتجاج کے لیے کئی مقامات پر مظاہرین موجود ہیں۔

متعدد شہروں میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں اب تک دو درجن سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں جب کہ 1500 سے زائد افراد کو حراست میں لیا گیا۔

نئے قانون کے تحت پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان سے نقل مکانی کر کے بھارت آنے والے ہندو، سکھ، بدھ مت، جین، پارسی اور مسیحی مذاہب کے ان افراد کو شہریت دی جائے گی جو 2014 سے قبل بھارت آئے ہوں یا وہ چھ برس تک بھارت میں مقیم رہے ہوں۔ اس قانون میں مسلمانوں کو شامل نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے اسے مسلمانوں کے خلاف سمجھا جا رہا ہے۔

بھارت کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے یہ بل 2016 میں بھی لوک سبھا (ایوانِ زیریں) میں پیش کیا تھا۔ تاہم، اس وقت بل راجیہ سبھا (ایوانِ بالا) میں منظور نہیں ہو سکا تھا۔

بھارت میں 20 کروڑ سے زائد مسلمان آباد ہیں جب کہ شمالی مشرقی علاقوں میں بنگلہ دیش سے بڑی تعداد میں مسلمان ریاست آسام میں آ کر آباد ہوئے ہیں۔

رواں سال اگست میں بھی یہ تنازع سامنے آیا تھا کہ جب این آر سی کا اجرا ہوا تو اس میں 20 لاکھ افراد کے نام شامل نہیں تھے، یعنی یہ افراد بھارت کے شہری تسلیم نہیں کیے گئے تھے۔ ان میں اکثریت مسلمانوں کی تھی اور ان میں لاکھوں ہندو بھی شامل تھے۔

بھارت کی حکومت کا مؤقف رہا ہے کہ وہ مسلمان جو اپنے خاندان کے ساتھ بنگلہ دیش سے آئے تھے، اُنہیں بھارت میں رہنے کا قانونی حق حاصل نہیں ہے۔

واضح رہے کہ لوک سبھا (ایوان زیریں) میں ​وزیرِ داخلہ امیت شاہ نے متنازع شہریت ترمیمی بل پیش کیا تھا جس پر تقریباً 12 گھنٹے تک بحث ہوئی۔

بھارت کی لوک سبھا میں بل کے حق میں 311 اور مخالفت میں 80 ارکان نے ووٹ دیا جب کہ ایوان بالا میں یہ بل 105 ووٹوں کے مقابلے میں 125 ووٹوں سے منظور ہوا تھا۔

جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں کیا ہوا؟
please wait

No media source currently available

0:00 0:03:21 0:00

اس نئے ترمیمی قانون کے تحت افغانستان، بنگلہ دیش اور پاکستان کے مسلمان اکثریت رکھنے والے ہمسایہ ملکوں کی اقلیتوں کو بھارتی شہریت دینے کی راہ ہموار کی گئی ہے۔ اگر اسے مجوزہ نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز کے ساتھ پڑھا جائے تو شہریت کے ترمیمی بل کے ناقدین اس بات کا شبہ ظاہر کرتے ہیں کہ اس کی مدد سے بھارت کی مسلمان اقلیت کو امتیاز کا نشانہ بنایا جائے گا اور بھارتی آئین سے سیکولرازم کی شق ختم کی جا سکتی ہے۔

اس حوالے سے حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت کانگریس کے رہنما راہول گاندھی کہہ چکے ہیں کہ بھارت میں جہاں بھی بی جے پی گئی اس نے نفرت پھیلائی ہے۔ نوجوان احتجاج کر رہے ہیں۔ دیگر ریاستوں میں مظاہرے ہو رہے ہیں ایسے میں کسی کی جان لینے کی کیا ضرورت ہے۔ کسی کو گولی کیوں ماری جا رہی ہے۔ بی جے پی کی حکومت عوام کی آواز سننا نہیں چاہتی۔ وہ عوام کی آواز سے ڈرتے ہیں اور اس کو کچلنا چاہتے ہیں۔

دوسری جانب حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے اہم رہنما اور مرکزی وزیر برائے داخلہ امیت شاہ نے بھی کہا تھا کہ شہریت سے متعلق ترمیمی قانون کسی اقلیت کے خلاف نہیں ہے۔ یہ قانون کسی صورت واپس نہیں لیا جائے گا۔ قانون میں کہیں بھی یہ ذکر نہیں کیا گیا کہ کسی کی شہریت ختم کی جا سکتی ہے۔ اس میں صرف شہریت دینے کا ذکر ہے۔ شہریت ترمیمی قانون پر تمام جماعتیں متحد ہو جائیں تو بھی بی جے پی اس قانون پر ایک انچ پیچھے نہیں ہٹے گی۔

دوسری جانب بھارت کے کچھ عرصہ قبل چیف آف ڈیفنس اسٹاف بننے والے سابق آرمی چیف جنرل بپن راوت نے شہریت بل کے خلاف ہونے والے مظاہروں سے متعلق کہا تھا کہ رہنما وہ ہوتے ہیں جو لوگوں کو درست سمت پر چلاتے ہیں۔ رہنما وہ نہیں ہوتے جو لوگوں کو نامناسب سمت دکھاتے ہیں۔ جس طرح ہم نے دیکھا کہ بڑی تعداد میں جامعات اور کالجز کے طلبہ باہر نکلے۔

یاد رہے کہ بھارت کی چھ ریاستوں نے متنازع شہریت بل پر عمل درآمد سے انکار کیا تھا۔ ان ریاستوں میں پنجاب، مغربی بنگال، مدھیہ پردیش، کیرالہ اور چھتیس گڑھ کی حکومتیں شامل تھیں۔

ریاست پنجاب کی اسمبلی نے دو روز قبل 17 جنوری کو متنازع شہریت بل کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف قرارداد کثرت رائے سے منظور کی تھی۔ پنجاب میں کانگریس برسر اقتدار ہے

بھارتی ریاست کیرالہ کے بعد پنجاب دوسری ریاست ہے جہاں متنازع شہریت بل کے خلاف اسمبلی نے قرارداد منظور کی۔ ریاست کیرالہ نے بل کے خلاف سپریم کورٹ سے بھی رُجوع کیا تھا۔

فیس بک فورم

متعلقہ

XS
SM
MD
LG