رسائی کے لنکس

logo-print

یورپی یونین ترکی میں انسانی حقوق سے 'صرف نظر' کر رہی ہے: کرد رہنما


دییمرتاس نے کہا کہ ترکی یورپی یونین میں شامل ہونا چاہتا ہے تو اس بنا پر یورپی یونین کے لیے  ضروری ہے کہ وہ ترکی کے انسانی حقوق کے ریکارڈ کے معاملے کو بھی ترکی کے ساتھ اٹھائے۔

ترکی کی ایک بڑی کرد نواز جماعت کے ایک رہنما نے یورپی یونین پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ انقرہ کے ساتھ تارکین وطن کے معاملے پر معاہدے کے حصول کے لیے ان کے ملک میں انسانی حقوق کی بگڑتی ہوئی صورت حال کو نظر انداز کر رہی ہے۔

ترکی کی پیپلز ڈیموکریٹک جماعت کے سربراہ صلاح الدین دیمیرتاس کا کہنا ہے کہ یورپی یونین ترکی سے یونان میں تارکین وطن کی آمد کو روکنے کے لیے ترکی کے صدر طیب اردوان کا تعاون حاصل کرنے کی متمنی ہے جس کی وجہ سے انسانی حقوق کی ممکنہ خلاف ورزیوں سے صرف نظر کیا جارہا ہے۔

دییمرتاس نے کہا کہ ترکی یورپی یونین میں شامل ہونا چاہتا ہے تو اس بنا پر یورپی یونین کے لیے ضروری ہے کہ وہ ترکی کے انسانی حقوق کے ریکارڈ کا معاملے ترکی کے ساتھ اٹھائے۔ تاہم انہوں نے مزید کہا کہ یورپی سفارت کار اور سیاسی رہنما نے انہیں بتایا کہ یورپی یونین کو اردوان کی ضرورت ہے تو اس وجہ سے وہ ان سے انسانی حقوق کے معاملے پر بات نہیں کررہے ہیں تاکہ اردوان ناراض نا ہو جائیں۔

تاہم دیمیرتاس نے کسی کا نام بتانے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ یہ بات بند کمرے میں ہونے والی ملاقاتوں کے دروان کہی گئی۔

ان کی طرف سے یہ الزامات ایک ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب ترکی کے جنوب مشرق میں کرد اکثریت والے قصبوں اور شہروں میں ترکی کی سکیورٹی فورسز کی کرد باغی گروپ 'پی کے کے' کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اس لڑائی کے دوران بچوں سمت تقریباً 200 عام شہری ہلاک جبکہ ہزاروں کو اپنے گھر بار چھوڑنا پڑے اور ایک بڑی تعداد کو 24 گھنٹے کے کرفیو کا سامنا ہے۔

انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنطیم ایمنسٹی انٹرنیشل کے ترکی کے لیے تحقیق کار اینڈریو گارڈنر کا کہنا ہے کہ اس صورت حال پر بین الاقوامی خاموشی تشویشناک امر ہے۔

ان تحفظات کے باوجود برسلز نے ترکی کی یورپی یونین میں شامل ہونے کے معاملے کو ایک بار پھر کھول دیا ہے۔ انسانی حقوق کے متعلق تحفظات کی وجہ سے یہ معاملہ رکا ہوا تھا۔ ترکی تارکین وطن کے معاملے پر تعاون کے بدلے میں یورپین یونین کا رکن بننے کے معاملے پر مزید پیش رفت کا متمنی ہے۔

ترکی میں انسانی حقوق پر تشویش جمعہ کو اس وقت مزید گہری ہو گئی جب ایک عدالت نے ایک معروف کثیرالاشاعتی ’زمان اخبار‘ کا کنٹرول انتظامیہ کے حوالے کر دیا۔ زمان اخبار ترکی کے اکا دکا بڑے اخبارات میں سے ایک تھا جو حکومت اور صدر پر تنقید کے حوالے سے جانا جاتا تھا۔ انسانی حقوق کی تنظیموں اور یورپی عہدیداروں نے ’زمان اخبار‘ پر قبضے پر تنقید کی ہے۔

XS
SM
MD
LG