رسائی کے لنکس

logo-print

مبینہ بدعنوانی پر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سابق صدر گرفتار


سابق عہدیدار پر الزام ہے کہ انھوں نے ڈیوڈ نگ کے نام سے پہچانی جانے والی چین کی ایک ارب پتی شخصیت سے رقم لی۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ایک سابق صدر کو بدعنوانی کے الزامات کے تحت نیویارک میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔

انٹیگوا و باربوڈا سے تعلق رکھنے والے جان ایش 2004ء سے اپنے ملک کے اقوام متحدہ میں سفیر تھے اور 2013ء میں جنرل اسمبلی کے اڑسٹھویں اجلاس کے لیے صدر منتخب ہوئے تھے۔

انھیں منگل کی صبح نیویارک میں ان کے گھر سے گرفتار کیا گیا۔

جنوبی ڈسٹرکٹ آف نیویارک کے لیے اٹارنی جنرل پریت بھریرا کی طرف سے جمع کروائی گئی 37 صفحات پر مشتمل شکایات میں ایش سے متعلق الزامات کی تفصیل درج ہے جس میں یہ بھی بتایا گیا کہ ایش نے 2013ء اور 2014ء میں کم از کم 13 لاکھ ڈالر رشوت لی اور انھوں نے ٹیکس جمع نہیں کروایا۔

سابق عہدیدار پر الزام ہے کہ انھوں نے ڈیوڈ نگ کے نام سے پہچانی جانے والی چین کی ایک ارب پتی شخصیت سے رقم لی۔

ڈیوڈ کو گزشتہ ماہ ہی بعض دیگر الزامات کے تحت گرفتار کر لیا گیا تھا۔

استغاثہ کا کہنا ہے کہ نگ نے مکاو میں اربوں ڈالر لاگت سے تیار ہونے والے اقوام متحدہ کے ایک کانفرنس سینٹر کے لیے ایش سے معاونت حاصل کی۔ 2013ء میں انھوں نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون کو ایک دستاویز جمع کروائی جس میں مکاو میں کانفرنس سینٹر بنانے پر زور دیا گیا تھا۔

اقوام متحدہ کے مطابق اس دستاویز کو تلاش کرنے کے لیے کی جانے والی ابتدائی کوشش بارآور نہیں ہو سکی ہے۔

اقوام متحدہ کے ترجمان اسٹیفن ڈوارک نے صحافیوں کو بتایا کہ امریکی اٹارنی جنرل کے دفتر نے انھیں تحقیقات سے متعلق آگاہ کیا اور نہ ہی سیکرٹری جنرل نے کبھی مکاو میں کانفرنس سنٹر سے متعلق ایش سے کسی معاملے پر تبادلہ خیال کیا۔

اس معاملے پر حکام نے ایش کے علاوہ دیگر پانچ افراد پر الزام عائد کیا ہے جن میں اقوام متحدہ کے لیے ڈومینک جمہوریہ کے نائب سفیر فرانسس لورنزو اور نگ سے وابستہ چار چینی کاروباری شخصیات شامل ہیں۔

XS
SM
MD
LG