رسائی کے لنکس

logo-print

بھارت: کرونا کیسز کی مجموعی تعداد 2 کروڑ سے متجاوز، آئندہ چند ہفتے خطرناک ہیں، ماہرین کا انتباہ


منگل کو بھارت میں کرونا کے نئے کیسز سامنے آنے کے بعد مجموعی تعداد دو کروڑ سے تجاوز کر گئی ہے جو کہ گزشتہ تین ماہ کے کیسز کی تعداد سے دو گنا ہے۔

عالمی وبا کروبا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ملک بھارت میں نئے کیسز اور ہلاکتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اس صورتِ حال میں ماہرین نے انتباہ جاری کیا ہے کہ آنے والے ہفتے ملک کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔

بھارت کی وزارتِ صحت کے مطابق منگل کو ملک میں مزید ساڑھے تین لاکھ سے زیادہ کیسز سامنے آئے ہیں جس کے بعد کیسز کی مجموعی تعداد دو کروڑ سے تجاوز کر گئی ہے۔

کیسز کی حالیہ تعداد گزشتہ تین ماہ کے دوران سامنے آنے والے کیسز کی تعداد کے دو گنا ہے جب کہ اموات کی مجموعی تعداد بھی دو لاکھ 20 ہزار سے زائد ہے۔

خبر رساں ادارے 'ایسوسی ایٹڈ پریس' کے مطابق ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ بھارت میں کرونا کیسز کی حیران کر دینے والی اصل تعداد اس سے بھی کہیں زیادہ ہے۔

امریکہ کے براؤن یونی ورسٹی اسکول آف پبلک ہیلتھ کے ڈین ڈاکٹر آشیش جھا کا کہنا ہے کہ وہ جن بھارتی ذمہ داران سے رابطے میں تھے وہ پرامید ہیں کہ آئندہ چند ہفتوں روز کے دوران صورتِ حال معمول پر آجائے گی۔

اُن کے بقول، "میں بھارت کے ذمہ داران کو بتاتا رہا ہوں کہ اگر معاملات ٹھیک چلتے بھی رہے آئندہ چند ہفتے خطرناک ثابت ہوں گے اور ایسا شاید زیادہ عرصے تک بھی رہ سکتا ہے۔"

ڈاکٹر آشیش کا کہنا ہے کہ صحتِ عامہ سے متعلق اقدامات پر توجہ دینے کی ضرورت ہے جن میں ٹارگٹڈ شٹ ڈاؤن، مزید ٹیسٹنگ، ماسک پہننے کو یقینی بنانا اور اجتماعات سے گریز کرنا شامل ہے۔

ڈاکٹر آشیشی جھا کے بقول مذکورہ اقدامات پر عمل درآمد سے ہی نئے کیسز میں اضافے کو روکنا ممکن ہے۔

یاد رہے کہ بھارت میں کرونا کیسز میں تیزی سے اضافے کا آغاز رواں برس فروری سے ہوا تھا جب حکومت نے مذہبی تہوار کے لیے اجتماعات اور ریاست میں انتخابات سے قبل ریلیاں نکالنے کی اجازت دی تھی۔

بھارت کے صحت کے اعلیٰ عہدیدار راجیش بھوشن نے گزشتہ ماہ وبا سے لڑنے کے لیے تیار نہ ہونے کے حوالے سے تبصرہ کرنے سے گریز کیا تھا جب کہ اپوزیشن کی جماعتوں کی جانب سے وزیرِ اعظم نریندر مودی کی کرونا سے نمٹنے کی حکمتِ عملی کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

یومیہ لاکھوں مریضوں کے کرونا ٹیسٹ مثبت آنے اور اسپتال میں داخل ہونے والے مریضوں کی شرح میں اضافے کے بعد اسپتالوں دباؤ ہے جہاں بستر اور آکسیجن کی قلت پیدا ہو گئی ہے۔

دارالحکومت نئی دہلی کی ہائی کورٹ نے بھی خبردار کیا ہے کہ اسپتالوں میں آکسیجن کی فراہمی کو یقینی نہ بنایا گیا تو حکام کو سزائیں دی جائیں گی۔

انڈین انسٹی ٹیوٹ آف سائنس ایجوکیشن اینڈ ریسرچ کی ڈاکٹر وینیتا بال کا کہنا ہے کہ بھارت میں کرونا سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد ملک کے صحت کے نظام کی عکاسی کر رہی ہے۔

ان کے بقول وزیرِ اعظم نریندرمودی کی جماعت صحت کے نظام سے متعلق فنڈز میں کمی کو بنیاد بنا کر تنقید کا مقابلہ کر رہی ہے۔

ڈاکٹر وینیتا بال نے کہا کہ صرف چند چیزوں کو بہتر کرنے سے ہی وبا پر قابو ممکن ہو سکتا تھا لیکن حکومت نے یہ بھی نہیں کیا۔

انگلینڈ کی یونی ورسٹی آف کیمبرج کے وبائی امراض کے ماہر ڈاکٹر روی گپتا کا کہنا ہے کہ بھارت میں پیدا ہونے والی صورتِ حال جلد ختم ہونے والی نہیں اور یہ ملک کے لیے خطرہ ہے۔

بھارتی ریاست مغربی بنگال کے ڈاکٹرز فورم کے کنوینئر ڈاکٹر پونیا براتاگون کا کہنا ہے کہ ریاست کو اس وقت چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا جب الیکشن کا انعقاد ہوا اور بغیر ماسک کے لوگوں کے ہجوم کی وجہ سے صورتِ حال سنگین ہونا شروع ہوئی۔

ان کے بقول انتخابات کے آغاز کے بعد سے ریاستِ مغربی بنگال میں انفیکشن کی یومیہ اوسط تعداد 17 ہزار سے بڑھ کر 32 ہزار تک جا پہنچی ہے۔

ڈاکٹر پونیا براتاگون کا کہنا ہے کہ یہ ایک خوف ناک بحران ہے۔ ریاست کو ویکسین نیشن کے عمل میں تیزی کی ضرورت ہے۔ دنیا میں ویکسین تیار کرنے والے سب سے بڑے ملک میں ہی ویکسین کی قلت ہے۔

دوسری جانب ماہرین نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے کہ ویکسین کی قیمت غریبوں کو اس کی پہنچ سے دور کر رہی ہے۔

پیر کو بھارت کی اپوزیشن جماعتوں نے بھی حکومت پر اس بات پر زور دیا تھا کہ تمام عوام کے لیے ویکسین مفت فراہم کی جائے۔

یاد رہے کہ بھارت میں یومیہ لگ بھگ 21 لاکھ افراد کو ویکسین کی خوراک فراہم کی جا رہی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG