رسائی کے لنکس

logo-print

لبنان میں مساجد کے باہر دھماکے، ہلاکتیں 42 ہوگئیں


دھماکوں کے نتیجے میں لبنان میں جاری فرقہ ورانہ کشیدگی میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔

لبنان کے شمالی شہر طرابلس میں دو مساجد کے باہر بم دھماکوں میں ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 42 ہوگئی ہے جب کہ سیکڑوں افراد زخمی ہیں۔

حکام کے مطابق دونوں دھماکے شہر کی دو بڑی مساجد کے باہر اس وقت ہوئے جب لوگ نمازِ جمعہ کی ادائیگی کے بعد باہر آرہے تھے۔

طرابلس بنیادی طور پرسنی اکثریتی شہر ہے جہاں ہونے والے ان دھماکوں کے نتیجے میں لبنان میں جاری فرقہ ورانہ کشیدگی میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔

گزشتہ ایک ہفتے کے دوران میں لبنان دوسری بار بم حملے کا نشانہ بنا ہے۔ اس سے قبل گزشتہ ہفتے دارالحکومت بیروت کے اس علاقے میں کار بم دھماکہ ہوا تھا جسے شیعہ مسلح تنظیم 'حزب اللہ' کا گڑھ تصور کیا جاتا ہے۔ اس دھماکے میں 24 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

لبنان میں عالمی رفاہی تنظیم 'ہلالِ احمر' کے عہدیداران کے مطابق طرابلس میں ہونے والے دھماکوں میں 500 کے لگ بھگ افراد زخمی ہوئے ہیں۔

حکام کے مطابق پہلا دھماکہ 'مسجدِ تقویٰ' کے باہر ہوا جس میں 14 افراد ہلاک ہوئے۔ باقی ہلاکتیں زیادہ طاقت کے دوسرے بم دھماکے میں ہوئیں جو 'مسجدِ السلام' کے باہر ہوا۔

حکام کا کہنا ہے کہ دوسرے دھماکے میں 100 کلوگرام بارودی مواد استعمال کیا گیا ہے جسے ایک کار میں چھپایا گیا تھا۔

دھماکوں کے بعد اعلیٰ حکومتی عہدیداران نے عوام سے پر امن رہنے کی اپیل کی ہے لیکن طرابلس شہر کی فضا انتہائی کشیدہ ہے۔

خیال رہے کہ پڑوسی ملک شام میں جاری خانہ جنگی کی وجہ سے لبنان میں بھی کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

لبنان میں عوام، سیاسی دھڑے اور جنگجو گروہ دو حصوں میں بٹ گئے ہیں، جن میں سے ایک شامی صدر بشار الاسد کی حکومت کا حمایتی جب کہ دوسرا اس کا مخالف ہے۔

لبنان کی طاقت ور شیعہ مسلح تنظیم 'حزب اللہ' کے ہزاروں کارکن شامی صدر بشار الاسد کے فوجی دستوں کے ساتھ مل کر باغی گروہوں کے ساتھ لڑ رہے ہیں جنہیں لبنان کی کئی سنی العقیدہ تنظیموں اور حلقوں کی حمایت حاصل ہے۔
XS
SM
MD
LG