رسائی کے لنکس

logo-print

نوجوان کی ہلاکت، مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے: صوبائی مشیرِ داخلہ


نوجوان کی ہلاکت، مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے: صوبائی مشیرِ داخلہ

وقوعے کے قریب ایک تقریب جاری تھی جہاں پر ایک نجی ٹیلی ویژن چینل کا کیمرہ مین موجود تھا۔ چیخ و پکار کی آواز سن کر وہ فوری طور پر موقعے پر پہنچا

کراچی میں ایک نوجوان کے’ماورائےعدالت قتل‘ کی وڈیو ٹیلی ویژن پر بارہا دکھائےجانے کے بعد ملک بھرمیں ایک شور برپہ ہے۔

اِس سلسلے میں وڈیو رپورٹ کا پسِ منظر بتاتے ہوئے،سینئر صحافی خورشید عباسی نے جمعرات کو ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا کہ وقوعے کے قریب ایک تقریب جاری تھی جہاں پر ایک نجی ٹیلی ویژن چینل کا کیمرہ مین موجود تھا۔ چیخ و پکار کی آواز سن کر وہ فوری طور پر موقعے پر پہنچا۔

خورشید عباسی نے بتایا کہ کیمرہ مین کے مطابق ایک نوجوان کو پکڑ کر ریجنرز کے سامنے لایا گیا ۔ اُن کے بقول، اُس نوجوان کو بالوں سے پکڑ کر کیمرہ مین سے کہا گیا کہ، ’ لو، اِن کی فوٹیج بناؤ۔‘

خورشید عباسی نےکیمرہ مین کے حوالے سے بتایا کہ ایسے میں ایک بھگدڑ سی مچی، رینجرز کے پانچ چھ اہل کار پہنچے اور ایک عجیب صورتِ حال سی پیدا ہوگئی۔

دریں اثنا، سندھ کے محکمہٴ داخلہ کے مشیر شرف الدین میمن کا کہنا تھا کہ ’ ماورائے عدالت قتل کے ذمہ داروں کو سزا دی جائے گی‘۔اُنھوں نے ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا کہ رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ مبینہ طور پر نوجوان کسی ’کرائیم‘ میں ملوث تھا، ’جنھیں رینجرز کی تحویل میں دیا گیا۔ اُن پر تشدد کا کوئی جواز إِس لیے نہیں بنتا تھا، کیونکہ دوسری طرف سےکوئی مزاحمت درپیش نہیں تھی‘۔ لیکن، اُن کے بقول،’ اُنھیں پوائنٹ بلینک فاصلے پر مارا گیا‘۔

شرف الدین کے الفاظ میں یہ ایک سنگین اور غیر قانونی واقعہ ہے جِس پر آیف آئی آر کاٹے جانے کے بعد قانونی کارروائی زیرِ عمل ہے۔ نہ صرف یہ، بلکہ ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی جاچکی ہے جومعاملے کی چھان بین کرنے کے بعد اپنی رپورٹ دے گی۔

ایک سوال کے جواب میں، صوبائی مشیرِ داخلہ کا کہنا تھا کہ کچھ عرصہ قبل ٹارگٹ کلنگ کے مبینہ واقعات کے بعد رینجرز کو پولیس کے اضافی اختیارات سپرد کیےگئے تھے، تاکہ وہ مجرموں کے خلاف تحقیقات اور کارروائی کریں۔

آڈیو رپورٹ سنیئے:

XS
SM
MD
LG