رسائی کے لنکس

موسمیاتی تبدیلیاں تباہی لارہی ہیں: ماہرین


موسمیاتی تبدیلیاں تباہی لارہی ہیں: ماہرین

صدر اوباما نے اس ہفتے امریکہ میں آندھی اور طوفان کی تباہ کاریوں کے شکار علاقوں کا دورہ کیا اور متاثرہ آبادیوں میں رہنے والوں کو ہر ممکن مدد کا یقین دلایا ۔ لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا میں موسموں کی تبدیلی کے باعث سیلاب ، بارشوں کی کمی اور جنگل میں لگنے والی آگ کے باعث تباہی پھیل رہی ہےاور ان کاخیال ہے کہ آنے والے وقت میں دنیا کے بیشتر علاقوں میں شدید موسمی تبدیلیاں متوقع ہیں ۔

کینیڈا کے شمالی علاقوں میں ہزاروں افراد کو جنگل کی آگ کے باعث نقل مکانی کرنی پڑی ۔ جب کہ امریکہ میں مسی سپی دریا میں طغیانی کے باعث کئی ریاستیں سیلابوں کی زد میں آگئیں۔

چین کے کچھ علاقوٕں میں شدید خشک سالی کے آثار نظر آرہے ہیں اور کولمبیا میں شدید بارشوں کے باعث جانی اور مالی نقصان کی اطلاعات ہیں۔

کولمبیا کے ایک شہری فلیپ ایسکوبارکا کہناہے کہ پانی نے ہمارے گھر کو تبا ہ کردیا۔ ہر چیز ڈوب گئی، جانور بہہ گئے اور ہم یہاں سڑک پر زندگی کزارنے پر مجبور ہو گئے۔

یہ منظر ویسا ہی ہے جیسا پچھلے سال پاکستان میں آنے والے سیلاب کے دوران ملک کے تین صوبوں میں دیکھنے میں آتا رہا ۔

دنیا کی آٹھ اقتصادی طاقتوں کے سربراہوں نے گزشتہ ہفتے فرانس کےایک خوبصور ت علاقے نارمنڈی میں ماحولیاتی آلودگی کم کرنے کے حوالے سے بات چیت کی ۔ لیکن تحفظ ماھول کے لئے کام کرنے والی تنظیم گرین پیس کے ڈائریکٹر کومی نائیڈو کاکہنا ہے کہ اس سلسلے میں بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔

کومی نائیڈوکا کہناتھا کہ موسمی تبدیلیوں پر بات چیت کرنے والوں سے ہمارا کہنا ہے کہ قدرت بات چیت نہیں کرتی ۔ ایسے مکالموں سے وہ اس زمین کے ساتھ صرف سیاسی کھیل کھیل رہے ہیں ۔ یہ صرف تباہی کا سفر ہے ۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ صنعتی ترقی کی رفتار میں اضافہ فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ اور میتھین گیسوں کے اخراج میں اضافے کا سبب بن رہا ہے ، جس کی وجہ سے زمین کا درجہ حرارت بڑھتا جا رہا ہے ۔ ماہر موسمیات ہائیڈی کلن آب و ہوا کی اس تبدیلی کو شدید موسمی اثرات کا ذمہ دار ٹھہراتی ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ سیلابوں ، خشک سالی اور جنگل کی آگ جیسے شدید موسمی حالات زمین کے درجہ حرارت میں اضافے کے باعث رونما ہو رہے ہیں۔

زمین کا درجہ حرارت مسلسل بڑھ رہا ہے، ایک سائنسی اندازے کے مطابق سال 2000 سے 2009 کی دہائی دنیا میں اب تک کی سب سے گرم ترین دہائی ثابت ہوئی ہے۔

XS
SM
MD
LG