رسائی کے لنکس

logo-print

فیس بک کی 'لبرا' کرنسی لانچنگ سے قبل ہی مشکلات کا شکار


فائل فوٹو

فیس بک کی لبرا نامی کرپٹو کرنسی اپنے آغاز سے قبل ہی مشکلات میں گھر گئی ہے۔ لبرا کو نہ صرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مخالفت کا سامنا ہے بلکہ یہ عالمی ریگولیٹرز اور دیگر ڈیجیٹل کرنسیوں کے مقابلے میں بھی کمزور دکھائی دے رہی ہے۔

حال ہی میں لندن میں ہونے والی ایک ٹیکنالوجی کانفرنس میں ماہرین نے ڈیجیٹیل کرنسی اور اس کے مستقبل پر تبادلۂ خیال کیا۔ کانفرنس کے دوران ماہرین کی اکثریت نے لبرا کرنسی پر عدم اعتماد کا اظہار کیا۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کی ایک رپورٹ کے مطابق اس ایونٹ میں ٹیکنالوجی کے 100 سے زائد ماہرین کے علاوہ میڈیا کے نمائندگان بھی موجود تھے۔ کانفرنس میں جب ان لوگوں سے ہاتھ اٹھانے کو کہا گیا جو لبرا استعمال نہیں کرنا چاہتے تو دو تہائی افراد نے ہاتھ اٹھا کر فیس بک کی لبرا کرنسی میں عدم دلچسپی اور اس کے متعلق عدم اطمینان کا اظہار کیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی کرپٹو کرنسی کے مخالفین میں سے ہیں اور وہ بارہا اس کا اظہار بھی کر چکے ہیں۔ جمعرات کو اپنے ایک ٹوئٹ میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ میں کسی بٹ کوائن یا کرپٹو کرنسی کا حامی نہیں۔ کرپٹو کرنسی کی قدر کے استحکام کی کوئی ضمانت نہیں اور یہ کوئی پیسہ نہیں ہے۔

صدر ٹرمپ سمجھتے ہیں کہ لبرا سمیت کسی بھی کرپٹو کرنسی کی ڈالر کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں۔

ہیلن ڈزنی کرپٹو کرنسی کے فروغ اور بلاک چین ٹیکنالوجی پر کام کرتی ہیں۔ انہوں نے بھی لبرا پر اپنے خدشات کا اظہار کیا ہے۔

'اے ایف پی' سے گفتگو کرتے ہوئے وہ اس بات پر مضطرب تھیں کہ لبرا کو ریگولیٹ کون اور کیسے کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ کرپٹو کرنسی استعمال کرنے والے لوگ آزاد خیال ہیں جو سرمائے کو کنٹرول کرنے والے بڑے بینکوں سے دور رہ کر سرمائے کی طاقت اپنے ہاتھ میں رکھنا چاہتے ہیں اور اسی لیے وہ فکرمند ہیں کہ لبرا کو کیسے چلایا جائے گا۔

واضح رہے کہ فیس بک نے ایک ماہ قبل اپنی ڈیجیٹل کرنسی لبرا کے نام سے متعارف کرانے کا اعلان کیا تھا۔ فیس بک کا ارادہ ہے کہ وہ 2020 کے ابتدائی چھ ماہ میں اپنی کرنسی لانچ کردے گا۔ لبرا کو مشہور ڈیجیٹل کرنسی بِٹ کوائن کا متبادل اور مقابل قرار دیا جارہا ہے۔

فیس بک کی جانب سے لبرا کے اعلان کے بعد دنیا بھر کے معاشی ماہرین، بینک آف انگلینڈ، یورپین سینٹرل بینک اور امریکی فیڈرل ریزرو نے بھی لبرا میں دلچسپی ظاہر کی تھی۔

فیس بک نے لبرا کا ابتدائی خاکہ متعارف کراتے ہوئے بتایا تھا کہ فیس بک نے کیلبرا کے نام سے ایک کمپنی بنائی ہے جو 100 دیگر بڑی کمپنیوں کے ساتھ شراکت کرے گی۔

یہ 100 کمپنیاں لبرا کے سلسلے میں فیس بک کے ساتھ تعاون کر رہی ہیں جن میں آن لائن پیمنٹ کے لیے کام کرنے والی ویزا، ماسٹر کارڈ، پے پال اور آن لائن ٹیکسی سروس اوبر بھی شامل ہیں۔

فیس بک نے اسمارٹ فون پر لبرا کو محفوظ رکھنے اور استعمال کرنے کے لیے کیلبرا کے نام سے ڈیجیٹل والٹ بھی متعارف کرانے کا اعلان کیا تھا جس کے ذریعے صارفین اپنی لبرا کرنسی کو خرید و فروخت کے لیے استعمال کرسکیں گے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG