رسائی کے لنکس

logo-print

چہرہ شناسی کی ٹیکنالوجی شخصی آزادی کے لیے خطرہ


انسانی حقوق کے سرگرم کارکنوں کا اصرار ہے کہ پولس پر چہرہ شناسی کی ٹیکنالوجی استعمال کرنے پر پابندی لگنی چاہیے۔ اس مطالبے کے پیش نظر بعض بڑی کمپنیاں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو یہ ٹیکنالوجی فراہم کرنے میں پس و پیش سے کام لے رہی ہیں۔

مائیکروسافٹ نے حال ہی میں اعلان کیا ہے کہ وہ امریکہ میں پولیس کو چہرہ پہچاننے والی ٹیکنالوجی اس وقت تک فروخت نہیں کرے گی جب تک اس کے بارے میں کوئی وفاقی قانون نافذ نہیں ہو جاتا۔

اس اعلان کے بعد دو اور بڑی کمپنیوں آئی بی ایم اور ایمیزون نے بھی کہا ہے کہ وہ نسل پرستی کے خلاف امریکہ میں ہونے والے مظاہروں کے تناظر میں اس ٹیکنالوجی کی فروخت کو محدود کر رہی ہیں۔

اس سافٹ ویئر کے مخالفوں کا کہنا ہے کہ اس میں کئی خامیاں ہیں اور یہ کوئی مستند ذریعہ نہیں ہے۔

الیکٹرانک فرنٹیئر فاؤنڈیشن کے ایسوسی ایٹ ڈائریکٹر ناتھن شیرڈ کا کہنا ہے یہ ٹیکنالوجی خواتین، نوجوانوں اور سیاہی مائل لوگوں کے چہروں میں تمیز نہیں کر سکتی۔

اس وقت اس کا استعمال اس ڈیٹا بیس کے حوالے سے ہو رہا ہے جس میں اکثریت اقلیتی طبقوں، سیاہ فام افراد اور ترک مکانی کرنے والے افراد کی ہوتی ہے اور اگر ان کی درست پہچان نہ ہو تو انہیں انصاف نہیں ملتا۔

اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق ایشیائی اور افریقی امریکی کی غلط شناخت کا امکان سو گنا زیادہ ہے۔ اس کے علاوہ اس کے استعمال سے شخصی پرائیویسی کو بھی زک پہنچتی ہے۔

شیرڈ کا موقف ہے کہ اگر یہ مان لیا جائے کہ یہ درست شناخت کرتی ہے، تب بھی اس کا استعمال مناسب نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے اس سے امریکی عوام پہلی ترمیم کے ذریعے حاصل کردہ اجتماع کے حق سے محروم ہو سکتے ہیں۔ ان کی آزادنہ نقل و حرکت بھی متاثر ہو گی کیوںکہ انہیں ہر وقت یہی خوف ہو گا کہ ان کی جاسوسی ہو رہی ہے۔

چہرہ شناس سافٹ ویئر کے بارے میں متنازعہ بحث نئی نہیں ہے۔ پچھلے سال ایوان نمائندگان میں اس بارے میں سماعت ہوئی تھی کہ کیا چہرہ شناسی کی ٹیکنالوجی کو حکومت یا تجارتی ادارے استعمال کر سکتے ہیں اور یہ کس حد جائز ہے۔ مگر اس بارے میں کوئی قانون سازی نہ ہو سکی۔ یہ مسئلہ اب بھی الجھا ہوا ہے اور تیکنیکی طور پر عدم پختگی اس کی ایک بڑی خامی ہے۔

امریکہ میں سان فرانسسکو میں پولیس اور قانون نافذ کرنے والے دوسرے اداروں نے پہلی بار اس ٹیکنالوجی کا استعمال کیا۔ ریاست الی نوائے میں یہ قانون موجود ہے کہ بائیو میٹرک ڈیٹا حاصل کرنے سے پہلے تحریری اجازت نامہ ضروری ہے۔

سان فرانسسکو کے بورڈ آف سپروائزر کے آرون پیسکن کہتے ہیں کہ اس سافٹ ویر یا ٹیکنالوجی نے امریکی کانگریس کے 28 ارکان کی غلط شناخت کی۔ ظاہر ہے کہ اگر حکومت استعمال کرے گی تو اس کے نقصانات واضح ہیں۔

ویسے یہ ٹیکنالوجی پوری دنیا میں استعمال کی جا رہی ہے۔ آسٹریلیا میں قومی سطح پر چہروں کا بائیو میٹرک ڈیٹا بیس بنایا جا رہا ہے۔ برطانیہ میں بھی اسے استعمال کیا جا رہا ہے۔ چین میں تو اس کا بے تحاشہ استعمال کیا جا رہا ہے۔

ان کے علاوہ ایپل تو اس ٹیکنالوجی کو اپنے آئی فون کو کھولنے کے لیے استعمال کر ہی رہا ہے۔

بہت سے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی باقی رہے گی اور کوئی نہ کوئی اس کا استعمال کرتا رہے گا۔ لیکن یہ ضروری ہے کہ اس کے استعمال کے بارے کوئی ضابطہ اور طریقہ ہونا چاہیے۔

ممکن ہے یہ ٹیکنالوجی باقی رہے، مگر ایک بات واضح ہے کہ بڑی بڑی ٹیک کمپنیاں اس سلسلے میں ذمہ داری اٹھانے سے گریزاں ہیں۔ یہ کام قانون سازوں کا ہے کہ وہ فیصلہ کریں کہ امریکہ میں اس کا استعمال کس طرح اور کون کرے گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG