رسائی کے لنکس

logo-print

صدارتی مباحثہ، ڈیموکریٹ امیدواروں کے دعوے ’مبہم‘ قرار


نیویارک ٹائمز، واشنگٹن پوسٹ اور پولی ٹیکو کی جانب سے حقائق کی جانچ کرنے والوں میں اس بات پر اتفاق ہے کہ نمایاں ترین ڈیموکریٹ صدارتی امیدوار ہیلری کلنٹن نے ’محکمہٴخارجہ کی پالیسی کی غلط تشریح کی‘

حقائق کی جانچ کرنے والے امریکی ماہرین کا کہنا ہے کہ منگل کی شب ڈیموکرٹک پارٹی کے متوقع صدارتی امیدواروں کی جانب سے پہلے مباحثے میں کئے گئے ’بعض دعوے نہ صرف مبہم اور غیر واضح، بلکہ سریحاً غلط تھے‘۔

نیویارک ٹائمز ، واشنگٹن پوسٹ اور پولی ٹیکو کے حقائق کی جانچ کرنے والوں میں اس بات پر اتفاق ہے کہ نمایاں ترین ڈیموکریٹ صدارتی امیدوار ہیلری کلنٹن نے محکمہٴخارجہ کی پالیسی کی غلط تشریح کی؛ اور کہا کہ ان کے ادارے نے انھیں ذاتی اور سرکاری پیغامات کی ترسیل کے لئے نجی اِی میل سرور استعمال کرنے کی اجازت دی تھی۔

پولی ٹیکو کا کہنا ہے کہ ہیلری کلنٹن نے متعدد بار اس بات کا دعویٰ کیا، حالانکہ محکمہٴخارجہ کی پالیسی ہدایت نامے میں واضح ہے کہ معمول کی کارروائی سرکاری نظام کے تحت ہونا چاہئے۔

ہیلری نے نیویارک سے باہر اپنےگھر میں لگائے گئے نجی اِی میل سرور کو استعمال کیا، جس کی وجہ سے ان کے کئی ووٹرز نے انتخابی مہم کے دوران ان کی ایمانداری پر سوال اٹھائے۔ اس کے جواب میں، وہ کہتی رہی ہیں کہ انھوں نے کبھی ایسا اِی میل نہ تو وصول کیا نہی بھیجا، جس پر قومی سلامتی کی دستاویزات کی درجہ بندی کی گئی ہو۔ لیکن، امریکی تحقیقات میں مصروف اہل کاروں کا کہنا ہے کہ ایسے ہزاروں اِی میل ملے ہیں جو اس درجہ بندی کے زمرے میں آتے ہیں۔

ہیلری نے کہا ہے کہ ان کے اِی میل پر کانگریس کی تحقیقات ریپبلکنز کی ایماء پر کی جا رہی ہے، تاکہ ان کی صدارتی مہم متاثر ہو۔ لیکن، وہ 22 اکتوبر کو ہونے والی سماعت میں ہر بات کا جواب دیں گی۔

حقائق کی جانچ کرنے والوں نے ہیلری سے سوال کیا ہے کہ ان کا دعویٰ ہے کہ سابق قومی سلامتی کنٹریکٹر ایڈورڈ سنوڈن کو امریکی قانون کے تحت تحفظ حاصل ہوتا اگر وہ ان دستاویزات کو افشا کرنے کی بجائے نگرانی کے اس پروگرام کی شکایت امریکی حکام سے کرتے۔

پولی ٹیکو اور واشنگٹن پوسٹ کا مؤقف ہے کہ حکومتی پروگرام کی شکایت کرنے والے سرکاری ملازمین کے لیے انتقامی کارروائی سے تحفظ کا نظام موجود ہے، لیکن سنوڈن ایک سرکاری ملازم نہیں بلکہ وہ کنٹریکٹر تھا جنھیں اس طرح کا تحفظ حاصل نہیں ہے۔

حقائق کی جانچ کرنے والوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ ہیلری کلنٹن 12 ممالک کے درمیان ہونے والےمعاشی معاہدے کو ماضی میں سنہرا معاہدہ قرار دیتی رہی ہیں، جبکہ حال ہی میں انھوں نے اس معاہدے کی مخالفت کا اعلان کیا ہے۔

خبر رساں ادارے نے بھی دوسرے صدارتی امیدوار، ورمونٹ کے سنیٹر برنی سنڈرز کے اس مؤقف کو غلط قرار دیا ہے جس میں وہ کہتے ہیں کہ کسی بھی ملک کے مقابلے میں امریکہ کی آمدن زیادہ ہے، جبکہ ترقی پذیر ممالک، خصوصاً افریقہ کی آمدن زیادہ ہے۔

انھوں نے سنڈرز کی جانب سے ملک میں غربت کے حوالے سے غلط اعداد و شمار پیش کرنے کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ سنڈرز نے کہا کہ 27 ملین لوگ غربت کی لکیر سے نچے زندگی گزار رہے ہیں، جبکہ حقیقی اعداد و شمار 46 ملین ہے۔

حقائق کی جانچ کرنے والوں نے بقیہ تین امیدواروں کے دعوؤں کو بھی غلط قرار دیا جن میں رہوڈس آئی لینڈ کے سابق سنیٹر لنکن چیفی، ورجنیا کے سابق سنیٹر جیم ویب اور میری لینڈ کے سابق گورنر مارٹن او مالے شامل ہیں۔

XS
SM
MD
LG