رسائی کے لنکس

حلقہ بندیوں کی مجوزہ ترمیم آئینی اصولوں کے منافی ہے: فافین


اس مجوزہ ترمیم میں غیر مسلموں کے لیے ان کی آبادی کے لحاظ سے مخصوص نشستوں کے متعلق بھی کوئی بات نہیں کی گئی۔

پاکستان میں آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کے لیے کام کرنے والی ایک مؤقر غیر سرکاری تنظیم نے خیال ظاہر کیا ہے کہ حکومت کی طرف سے نئی حلقہ بندیوں کے لیے تیار کی گئی آئینی ترمیم ملک کے آئین کے بنیادی خدوخال کے منافی ہے۔

حکومت رواں سال ہونے والی مردم شماری کے عبوری نتائج کی روشنی میں آئندہ عام انتخابات کے لیے نئی حلقہ بندیوں کی غرض سے آئینی ترمیم تجویز کرچکی ہے۔

اس مجوزہ ترمیم پر پارلیمانی جماعتوں کا اتفاق رائے نہ ہونے کے بعد اسے مشترکہ مفادات کونسل میں بھیجا گیا تھا جس نے رواں ہفتے ہی اسے منظور کر لیا تھا۔

اس مجوزہ ترمیم میں 2018ء کے عام انتخابات کی بابت محض ایک بار کے لیے مردم شماری کے عبوری نتائج سے استفادہ کرتے ہوئے نئی حلقہ بندیوں اور قومی اسمبلی کے لیے نشستوں میں ردوبدل کا ذکر کیا گیا ہے۔

مردم شماری کے حتمی نتائج ابھی آنا باقی ہیں اور عبوری نتائج پر مختلف سیاسی و سماجی حلقے اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے عدم اطمینان کا اظہار کر چکے ہیں۔

فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک (فافین) کی رپورٹ کے مطابق مجوزہ ترمیم آئین کی شق 51 کی ذیلی شقوں تین اور پانچ کے منافی ہے۔

شق 51 کی ذیلی شق پانچ میں کہا گیا ہے کہ "قومی اسمبلی کی نشستیں مردم شماری کے سرکاری نتائج کے مطابق آبادی کے لحاظ سے ہر صوبے، وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں اور اسلام آباد کو تفویض کی جائیں گی۔"

لیکن مجوزہ ترمیم میں قبائلی علاقوں کے لیے آبادی کے لحاظ سے نشستوں میں کوئی ردوبدل نہیں کیا جا رہا۔

اسی طرح ذیلی شق تین کے تحت آبادی کے لحاظ سے نشستوں کی تقسیم سے بھی اس مجوزہ ترمیم میں انحراف ہوتا دکھائی دیتا ہے کیونکہ قبائلی علاقوں سے قومی اسمبلی کی نشستیں اس مرتبہ بھی 12 ہی رکھی گئی ہیں جو کہ سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دور میں ان علاقوں کے لیے مختص کی گئی تھیں۔

رپورٹ کے مطابق ان علاقوں کے لیے نشستیں اس بار کم از کم 24 ہونی چاہیے تھیں۔

فافین کا کہناہے کہ آئین کے بنیادوں اصولوں سے اس طرح کا انحراف غیر معمولی وجوہات اور وضاحت کا متقاضی ہے اور زیادہ مناسب یہی ہوتا کہ قبائلی علاقوں کے صوبہ خیبر پختونخوا میں انضمام یا الگ صوبے بنانے سے متعلق فیصلہ کر لیا جاتا۔

مزید برآں اس مجوزہ ترمیم میں غیر مسلموں کے لیے ان کی آبادی کے لحاظ سے مخصوص نشستوں کے متعلق بھی کوئی بات نہیں کی گئی۔

نئی حلقہ بندیوں کی اس ترمیم کو حکومت یہ کہہ کر منظور کرانے کے لیے سرگرم ہے کہ آئینی تقاضے کو پورا کرتے ہوئے انتخابات سے قبل مردم شماری کے ان نتائج سے استفادہ ضروری ہے بصورت دیگر انتخابات تاخیر کا شکار ہو سکتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG