رسائی کے لنکس

ایک دن نیو یارک میں!


صدر اوباما کا دوبارہ منتخب ہونا , اگلےسال امریکہ کی افغانستان سے واپسی اور ایک بلکل نئی نیشنل سیکیورٹی ٹیم کا انتخاب پاکستان اور اس خطے پر اہم اثرات مرتب کرے گا

پاکستان کے اقوام متحدہ میں مندوب مسعود خان نہ صرف پاکستان کی نمائندگی کررہے ہیں بلکہ جنوری کے لیے وہ پاکستان کے سفیر کی حیثیت سے سیکیورٹی کونسل کے صدر بھی منتخب ہوگئے ہیں۔

پاکستان جو ساتویں بار اقوام متحدہ سیکیورٹی کونسل کا غیر مستقل رُکن منتخب ہوا ہے، ا س کے لیے کونسل کی سربراہی میں ایک زیادہ بڑا اعزاز ہے۔ ایسے وقت میں ایک منجھے ہوئے سفارت کار کی نیو یارک میں موجودگی سےپاکستان کو عالمی برادری میں اپنا مقام بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔ اپنے ہفتہ وار پروگرام کیفے ڈی سی کےلیے اس ہفتے نیو یارک جانا ہوا جہاں مسعود خان صاحب سے انٹرویو طے تھا۔ کیفے ڈی سی اب پاکستان کےناظرین ہر ہفتے بروز جمعہ پی ٹی وی کے نئے چینل پی ٹی وی گلوبل انگلش پر دیکھ سکیں گے۔

خان صاحب سےیاداللہ خاصی طویل ہے۔ پچھلی دہائی کے اوائل میں وہ واشنگٹن میں پاکستانی سفارت خانے میں ایک سینیر پوزیشن پر تھے، پھر وزارت خارجہ کے ترجمان رہے اور اسکے بعد جنیوا میں مستقل مندوب۔ چین میں سفارت کاری کے جوہر دکھانے کے بعد اب وہ نیو یارک میں پاکستان کے مندوب ایک ایسے وقت بنے ہیں جبکہ دنیا میں انتہائی اہم تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں۔ ان تبدیلیوں کا تعلق بلا واسطہ اور بلواسطہ پاکستان کے مستقبل سے بھی ہے۔ صدر اوباما کا دوبارہ منتخب ہونا, اگلے سال امریکہ کی افغانستان سے واپسی اور ایک بلکل نئی نیشنل سیکیورٹی ٹیم کا انتخاب پاکستان اور اس خطے پر اہم اثرات مرتب کرے گا۔ خصوصاً پینٹا گان سے لیون پنیٹا کا ہٹنا ، انکی جگہ صدر اوباما کا سابق سینیٹر چک ہیگل کو نامزد کرنا، اور سینیٹر کیری کی وزیر خارجہ کے لیے نامزدگی ، آنے والے دنوں میں امریکہ کی دفاعی اور خارجہ پالیسی کی طرف ایک اہم اشارہ ہے اور پاکستان کے لیے غور و فکر کا موجب بھی!

ماضی کی غلطیاں ہم سب کے سامنے ہیں اور انکا خمیازہ بھی ہم سب ہی بھگت رہے ہیں، لیکن امید ہے کہ اس انتہائی اہم اور نازک دور میں ہمارے پالیسی ساز ادارے اور سفارت کار پھونک پھونک کرقدم اٹھائینگے۔



اس موڑ پر پاکستان کی خارجہ اور دفاعی پالیسی نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا کے لیے بھی نتیجہ خیز ہوگی۔ مسعود خان اقوام متحدہ میں پاکستان کا چہرہ ہیں۔ وہ نرم خو، خوش گفتار ہیں اور بین الاقوامی معاملات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ انتہائی اہم دارلحکومتوں میں سفارتی فرائض انجام دینے کی وجہ سے وہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کے ماہر سمجھے جاتے ہیں۔

پاکستان کا نیا ملٹری ڈاکٹرن، نیٹو کا افغانستان میں صفر فوجی آپشن پر غور اور اچانک ہونے والی پاکستان اور بھارت کے درمیان لائن آف کنٹرول پر جھڑپیں۔ یہ واقعات پاکستان کی خارجہ پالیسی کا ایک اہم امتحان ہیں۔ ایسے میں مخدوش اندرونی حالات، دہشت گردی اور عنقریب ہونے والے انتخابات (؟) عالمی اور داخلی طور پر ابھرنے والے منظر نامے کو مزید گھمبیر بناتے ہیں۔

مسعود خان اس پوزیشن میں تو نہیں کہ پاکستان کی فارن پالیسی مرتب کرسکیں، لیکن وہ ایک اہم آواز اور ٹیم کے نمایاں رکن ہیں۔ ماضی کی غلطیاں ہم سب کے سامنے ہیں اور انکا خمیازہ بھی ہم سب ہی بھگت رہے ہیں، لیکن امید ہے کہ اس انتہائی اہم اور نازک دور میں ہمارے پالیسی ساز ادارے اور سفارت کار پھونک پھونک کرقدم اٹھائینگے۔

اب کچھ نیو یارک کے بارے میں!اس پر تو بہت کچھ لکھا گیا ہے۔ بس یوں سمجھیے کہ نیو یارک اس بار بھی بہت اچھا لگا، خاص طور پر ٹائمز اسکوائر کی چہل پہل ، رونق اور ایک بے فکری کا سا عالم!لیکن، صرف ٹائمز اسکوائر کے آس پاس! ذرا آگے بڑھیں تو وہ ہی نیو یارک کی ٹریڈ مارک بھاگ دوڑ، ہارن کی آوازیں اور رش!
XS
SM
MD
LG