رسائی کے لنکس

logo-print

مقتول پولیس ایس پی طاہر داوڑ کے اہل خانہ کی عمران خان سے ملاقات


طاہر داوڑ کے بھائیوں کی وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات

پاکستان میں وزیرِ اعظم عمران خان سے اسلام آباد سے اغوا ہونے اور افغانستان میں مبینہ طور پر قتل ہونے والے پولیس افسر طاہر داوڑ کے اہل خانہ نے ملاقات کی ہے۔

ترجمان وزیراعظم ہاؤس کے مطابق اس ملاقات میں وزیرِ مملکت برائے داخلہ شہریار خان آفریدی، وزیر اعظم کے معاون خصوصی افتخار درانی، آئی جی پولیس خیبر پختونخواہ بھی موجود تھے۔

پشاور پولیس کے ایس پی طاہر داوڑ کو 26 اکتوبر کو اسلام آباد کے سیکٹر ایف ٹین کے قریب سے اغوا کرلیا گیا تھا اور اس کے بعد 15 نومبر کو ان کی لاش افغانستان میں ننگرہار کے علاقہ سے برآمد ہوئی تھی ۔

وزیراعظم سیکرٹریٹ میں ہونے والی ملاقات میں طاہر داوڑ کے دو بھائی شریک ہوئے۔ ترجمان کے مطابق وزیرِ اعظم نے ایس پی طاہر دارڑ کے ایصال ثواب اور درجات کی بلندی کے لئے دعا کی اور غم زدہ خاندان سے اظہار ہمدردی کیا۔

اس موقع پر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ایس پی طاہر داوڑ ایک نڈر اور فرض شناس افسر تھے۔ انکی فرض شناسی اور بہادری پولیس ڈیپارٹمنٹ کے لئے باعث افتخار ہے۔ ایس پی طاہر داوڑ کی شہادت سے پولیس ڈپارٹمنٹ ایک ذمہ دار اور فرض شناس افسر سے محروم ہو گیا ہے،

اس موقع پر وزیرِ اعظم نے غم زدہ خاندان کو ہر ممکنہ مدد فراہم کرنے کی یقین دہانی بھی کروائی۔

طاہر داوڑ کو اسلام آباد سے پرسرار طور پر اغوا کیا گیا جس کے بعد ان کی لاش افغانستان سے ملنا پاکستان کے تمام سیکیورٹی اداروں کی کارکردگی پر ایک سوالیہ نشان ہے۔

اس واقعہ پر پاک فوج کے ترجمان میجرجنرل آصف غفور نے ایک ٹوئیٹ میں کہا تھا کہ پاکستانی پولیس افسر طاہر داوڑ کا اسلام آباد سے اغوا، افغانستان منتقلی، وہاں قتل اور پھر افغان حکام کا رویہ کئی سوالات کو جنم دیتا ہے جو کہ ظاہر کرتے ہیں کہ یہ معاملہ افغانستان میں ایک دہشت گرد تنظیم تک نہیں ہے۔

انہوں نے اس قتل کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایس پی طاہر داوڑ کا افغانستان میں بہیمانہ قتل انتہائی قابل مذمت ہے۔ ہم نے ایک بہادر پولیس افسر کو کھو دیا۔ میجرجنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے تحقیقات جاری ہیں لیکن ہم اعادہ کرتے ہیں کہ افغان سیکیورٹی حکام اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکنے کے لیے آہنی باڑلگانے میں تعاون کریں۔

ایس پی طاہر داوڑ کی لاش ملنے کے بعد پاکستان منتقلی کے حوالے سے بھی شدید تنازعات سامنے آئے اور پاکستان نے اس حوالے سے افغانستان پر عدم تعاون کے الزامات عائد کیے جبکہ اس دوران لاش کی پاکستانی حکام کو حوالگی پر بھی تنازعہ دیکھنے میں آیا جس میں افغان حکام نے لاش پشتون تحفظ موومنٹ کے محسن داوڑ اور دیگر قبائلی رہنماؤں کے حوالے کی تھی۔

ایس پی طاہر داوڑ کے قتل کی تحقیقات جاری ہیں لیکن اب تک اس حوالے سے کوئی مستند رپورٹ سامنے نہیں آسکی کہ انہیں کس نے اور کیوں قتل کیا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG