رسائی کے لنکس

فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم کرنے کی دستخطی مہم


قبائلی علاقوں کے خیبر پختون خوا میں انضمام کی دستخطی مہم
قبائلی علاقوں کے خیبر پختون خوا میں انضمام کی دستخطی مہم

پاکستان میں وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے(فاٹا) کوخیبرپختونخواہ میں ضم کرنے کے لئے فاٹا یوتھ جرگے کے تحت قبائلی علاقوں اور پاکستان کے مختلف شہروں میں موجود پریس کلبوں کے سامنے دستخطی مہم شروع کی ہے۔

خیبر پختونخوا کے صوبائی دارالحکومت پشاور کے پریس کلب کے سامنے بھی فاٹا سے تعلق رکھنے والے سیاسی و سماجی کارکنوں نے اس مہم میں حصہ لیا۔

جس میں سیاسی جماعتوں، بشمول جماعت اسلامی، پاکستان تحریک انصاف، پاکستان پیپلز پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی اور فاٹا یوتھ تنظیموں کے کارکنان نے بڑی تعداد میں اپنے دستخط کئے۔ دستخطی مہم کے شرکاء کا کہنا تھا کہ قبائلی عوام صوبہ خیبر پختونخوا کے ساتھ انضمام چاہتے ہیں۔

فاٹا سے تعلق رکھنے والے اسلامی جمعیت طلباء کے ناظم وسیم حیدر نے کہا کہ یہ ایک علامتی احتجاج ہے کیونکہ فاٹا کے عوام کو پاکستان کے اعلٰی عدلیہ تک رسائی ممکن نہیں ہے، اس لیے اس مہم کی کامیابی کے باوجود بھی ہم سپریم کورٹ آف پاکستان میں پٹیشن دائر نہیں کرسکتے۔

فاٹا کو صوبہ خیبر پختون خوا میں ضم کرنے کی مہم
please wait

No media source currently available

0:00 0:01:23 0:00

یاد رہے کہ فاٹا کے قبائلی علاقوں میں انتظامی اصلاحات کی سوچ کا آغاز اس وقت ہوا تھا، جب 2015 میں اس وقت کے وزیر اعظم نوازشریف نے سرتاج عزیز کی سربراہی میں ایک پانچ رکنی فاٹا اصلاحاتی کمیٹی تشکیل دی تھی۔

اس کمیٹی نے سات ایجنسیوں پر مشتمل قبائلی علاقوں کے دورے کرنے کے بعد سن 2016 میں اپنی ایک رپورٹ وزیر اعظم کو پیش کی تھی۔ جس کے مطابق فاٹا کے لاکھوں باشندے اپنے علاقوں کا صوبے خیبر پختونخوا کے ساتھ انضمام چاہتے ہیں۔

امن کا نوبیل انعام جیتنے والی پاکستانی خاتون ملالہ یوسف زئی نے اپنے ایک ٹویٹ میں قبائلی علاقوں کی صوبہ خیبر پختون خوا میں انصمام پر زور دیا ہے۔

ملالہ یوسف زئی کا تعلق خیبر پختون خوا سے ہے۔ خواتین کی تعلیم کے سرگرمی سے مہم چلانی والی ملالہ طالبان کے حملے میں شدید زخمی ہوگئی تھیں اور انہیں علاج کے لیے برطانیہ منتقل کیا گیاتھا۔ ان دنوں وہ برطانیہ میں زیر تعلیم ہیں۔

وفاقی حکومت کی جانب سے قبائلی علاقوں کی خیبر پختونخوا میں انضمام میں تاخیر کی جا رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس سست روی کی ایک وجہ حکومت کی سیاسی مجبوریاں اور مصلحتیں بھی ہیں۔

XS
SM
MD
LG