رسائی کے لنکس

واچ لسٹ میں نام پاکستان کے لیے 'اقتصادی مشکلات کا باعث ہو سکتا ہے'


تاہم حکومتی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام پاکستان کے لیے بین الاقوامی سطح پر خفت کا باعث تو بنا ہے لیکن اس کی وجہ سے پاکستانی معشیت پر کوئی منفی اثر نہیں پڑے گا۔

پاکستان کا نام منی لانڈرنگ اور دہشت گردی سے متعلق بین الاقوامی ادارے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس' ایف اے ٹی ایف'کی 'واچ لسٹ'میں شامل کرنے کے فیصلے پر سیاسی حلقے اور اقتصادی ماہرین تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں یہ اقدام ملکی معیشت کے لیے مشکلات کا باعث بن سکتا ہے۔

تاہم حکومتی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام پاکستان کے لیے بین الاقوامی سطح پر خفت کا باعث تو بنا ہے لیکن اس کی وجہ سے پاکستانی معیشت پر کوئی منفی اثر نہیں پڑے گا۔

پاکستانی وزیر اعظم کے مشیر برائے خزانہ و اقتصادی امور مفتاح اسماعیل کا کہنا ہے کہ پاکستاننے دہشت گردی کے لیے مالی وسائل کی روک تھام کے لیے موثر اقدام کیے ہیں اور ان کے بقول پاکستان کا نام ' ایف اے ٹی ایف'کی بلیک لسٹ میں شامل ہونے کا کوئی امکان نہیں ہے۔

ایک نجی ٹی وی چینل 'جیو نیوز' سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت آئندہ تین ماہ کے دوران بین الاقوامی برادری کے تحفظات کو دور کرنے کے لیے موثر لائحہ عمل وضع کرے گا۔

"اس لیے جو لائحہ عمل ہم وضع کریں گے اس کے تحت صوبائی حکومت کی پولیس اور وفاقی حکومت کی ایف آئی اے (وفاقی تحقیقاتی ادارہ) کے لیے رابطوں کا ایک بہتر نظام بنانا ہے، ہم کو اس طرف بھی توجہ دینی ہے کہ جب ہم دہشت گردوں کو پکڑتے ہیں تو ان پر ہم دہشت گردی کے الزام کے تحت مقدمے درج کرتے ہیں لیکن دہشت گردی کے لیے مالی وسائل کی فراہمی کا مقدمہ درج نہیں کرتے"۔

انہوں نے مزید کہا کہ "ہماری اسٹیٹ بینک کی منی لانڈرنگ اور دہشت گردی (کے لیے فنڈز )کی نگرانی کی پالیسی اگرچہ بڑی موثر رہی ہے لیکن اگر ان میں کوئی سقم ہے تو اس کی طرف بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے، جو صدر پاکستان نے ( دہشت گرد تنظیموں سے متعلق ) آرڈیننس جاری کیا ہے اس کو پارلیمان سے منظور کروانا ہے۔ "

دوسری طرف حزب مخالف کی جماعتیں فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے فیصلے کو حکومت کی ناکامی قرار دے رہے ہیں ۔

حزب مخالف کی ایک بڑی جماعت تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی نے ہفتہ کو اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جب ایک کوشش کے تحت پاکستان کو گرے لسٹ میں شامل کرنے کی منصوبہ بندی کی جارہی تھی تو یہ حکومت کی بنیادی ذمہ داری تھی کہ سفارتی سطح پر پاکستان کا موقف بھر پور انداز میں پیش کرتی۔

" اب یہ کہا جارہا ہے کہ وہ فیصلہ ہو چکا ہے اور جون میں گرے لسٹ میں ہمار ا نام شامل کر دیا جائے گا اس کا اثر ہماری کریڈٹ ریٹنگ پر، اس کا اثر ہماری بین الاقوامی تجارت پر اور اس کا اثر ہمارے بینکوں کے ذریعے لین دین پر ہوگا۔"

اقتصادی امور کے ماہر عابد سلہری کا کہنا ہے کہ پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ کم ہونا اقتصادی مشکلات کا باعث بن سکتا ہے۔

" اگر فوری طور پر قرضہ لینے کی ضرورت پڑ سکتی ہے تووہ کریڈٹ ریٹنگ اہم ہوتی ہے اگر بین الاقوامی ادارے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ کم کر دیتے ہیں تواس کی وجہ سے مہنگا قرضہ ملے گا اور قرضے دینے والے ادارے سخت شرائط عائد کر سکتے ہیں دوسرا بین الاقوامی سطح پر مالیاتی لین دین کے خرچے میں اضافہ ہو سکتا ہے اس کے ساتھ ساتھ بیرونی سرمایہ کار پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے سے ہچکچائیں گے۔"

حالیہ برسوں میں پاکستان کو ان کالعدم تنظیموں اور عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی نہ کرنے پر تنقید کا سامنا رہا ہے جن پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور امریکہ تعزیرات عائد کر چکے ہیں۔

واضح رہے کہ امریکہ اور اس کے بعض اتحادی ملکوں نے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس میں پاکستان کا نام ان ملکوں کی فہرست میں شامل کرنے کی تجویز دی تھی جنہوں نےدہشت گردوں کی مالی اعانت روکنے کے لیے موثر اقدامات نہیں کیے ہیں ۔

گزشتہ ہفتے پیرس میں بین الاقوامی ادارے کے اجلاس کے بعد جاری ہونے والے اعلامیہ میں پاکستان کا نام ان ملکوں کی فہرست میں شامل نہیں گیا تاہم پاکستانی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ اسلام آباد کو فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی گرے لسٹ میں شامل کرنے کا فیصلہ ہو چکا ہے اور اس کا باضابطہ اعلان آئندہ جون میں کیا جائے گا ۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG