رسائی کے لنکس

ہرات حملے میں افغان روبوٹکس ٹیم کی رُکن کے والد بھی ہلاک


قادریان کی 14 برس کی بیٹی، فاطمہ قادریان اُس ٹیم میں شامل تھیں جو طالبات پر مشتمل تھی، جسے بین الاقوامی روبوٹکس اولمپکس میں شرکت کے لیے ابتدائی طور پر امریکہ کا ویزا نہیں ملا تھا، جو واشنگٹن کے ایک ہائی اسکول میں منعقد ہوئی

صوبہٴ ہرات کے گورنر کے ترجمان نے بتایا ہے کہ ہرات شہر کی شیعہ مسجد پر ہونے والے مہلک خودکش حملے میں اسکول کی بچیوں کی افغان ٹیم کی کپتان کے والد بھی ہلاک ہوئے۔ ٹیم نے حالیہ دِنوں امریکی روبوٹکس مقابلے میں شرکت کی تھی۔

حملے میں محمد آصف قادریان زخمی ہوئے جو بعد میں چل بسے۔ نمازیوں سے بھری مسجد میں دو خودکش بم حملہ آوروں نے اپنے آپ کو بھک سے اڑا دیا، جس کی ذمہ داری داعش نے قبول کی، جس میں 32 نمازی ہلاک ہوئے، جن میں بچے بھی شامل تھے جب کہ 60 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔

قادریان کی 14 برس کی بیٹی، فاطمہ قادریان اُس ٹیم میں شامل تھیں جو طالبات پر مشتمل تھی، جسے بین الاقوامی روبوٹکس اولمپکس میں شرکت کے لیے ابتدائی طور پر امریکہ کا ویزا نہیں ملا تھا، جو واشنگٹن کے ایک ہائی اسکول میں منعقد ہوئی۔

بالآخر، ٹیم کو امریکہ آنے کی اجازت ملی، جس نے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے مداخلت کے بعد گذشتہ ماہ منعقدہ مقابلے میں شرکت کی۔ صدر ٹرمپ تارکین وطن پر پابندیاں لگانے کا شہرہ رکھتے ہیں۔

لڑکیوں نے نقرئی تمغا جیتا اور جب تک وہ واشنگٹن میں تھیں، اُن کی خوب پزیرائی ہوئی، اور وہ افغانستان میں کامیابی کی علامت بنی رہیں؛ جو تقریباً 40 برس سے لڑائی کا شکار ہے۔

فاطمہ کے بھائی محمد رضا نے بتایا کہ والد کی فوتگی پر اُن کی بہن کو مشکل وقت کا سامنا ہے۔

بقول اُن کے، ’’ہم سب کو مشکل لمحہ درپیش ہے۔ واقعے سے اب تک فاطمہ نے نہ کچھ کھایا ہے، نہی وہ کچھ بولی ہیں اور وہ صدمے کی کیفیت سے دوچار ہیں۔ آج، کئی بار بے ہوش ہونے پر معالجوں نے مائع خوراک کے استعمال پر زور دیا ہے‘‘۔

افغانستان میں اقوام متحدہ کے اعانتی مشن کا کہنا ہے کہ اس سال یہ پانچواں مہلک حملہ ہے جو ملک کی شیعہ برادری کے خلاف کیا گیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG