رسائی کے لنکس

ہرات میں شیعہ مسجد پر خودکش حملہ، 29 افراد ہلاک


شیعہ مسجد پر خودکش حملے کے بعد عام لوگ اور سیکیورٹی فورسز امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔۔

أفغان میڈیا نے مقامی حکام اور عینی شاہدین کے حوالے سے کہا ہے کہ ایک خودکش بمبار نے خود کو مسجد کے باہر دھماکے سے اڑا دیا جب کہ دوسرے حملہ آور نے مسجد میں داخل ہونے کے بعد فائرنگ شروع کر دی۔

أفغانستان کے مغربی حصے میں ایک شیعہ مسجد پر دھماکہ خیز مواد کی بڑی مقدار سے لیں دو خودکش بمباروں کے حملے میں کم ازکم 29 افراد ہلاک اور 40 کے لگ بھگ زخمی ہو گئے۔

یہ حملہ منگل کی رات ایران کی سرحد کے قریب واقع شہر ہرات میں ہوا۔

مقامی ڈاکٹروں نے وائس آف امریکہ کو 29 ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

أفغان میڈیا نے مقامی حکام اور عینی شاہدین کے حوالے سے کہا ہے کہ ایک خودکش بمبار نے خود کو مسجد کے باہر دھماکے سے اڑا دیا جب کہ دوسرے حملہ آور نے مسجد میں داخل ہونے کے بعد فائرنگ شروع کر دی۔

وزارت داخلہ کے ایک ترجمان نے حملے کی تصدیق کی ہے لیکن کوئی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ حملے کے وقت کم ازکم ایک ہزار افراد مسجد میں موجود تھے جو ایک مذہبی اجتماع کے سلسلے میں وہاں جمع تھے۔

فوری طور پر کسی نے حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ نہیں کیا۔

اس سے پہلے أفغانستان میں شیعہ عبادت گاہوں پر حملوں کی ذمہ داری داعش کی جانب سے قبول کیا جاتا رہا ہے۔

ایک روز قبل چار خودکش بمباروں نے دارالحکومت کابل میں عراقی سفارت خانے پر دھاوا بولا تھا۔

داعش نے پیر کے روز ہونے والے حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا تھا جب میں عہدے داروں کے مطابق 6 افراد زخمی ہوئے تھے۔

پاکستان کی حکومت نے ہرات میں عبادت گاہ اور کابل میں عراقی سفارت خانے پر حملوں کی سخت مذمت کی ہے۔

اسلام آباد میں وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری ایک بیان میں حملے سے متاثرہ افراد سے اظہارِ یکجہتی اور ہلاک شدگان کے ورثا سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پاکستان دہشت گردی کی ہر شکل کی سخت مذمت کرتا ہے جس کے مقابلے کے لیے تمام ملکوں کو مل کر کام کرنا چاہیے۔

اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیخش نے حملے کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ عام شہریوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنانا بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

اپنے ایک بیان میں عالمی ادارے کے سربراہ نے کہا کہ ہرات میں شیعہ عبادت گاہ پر حملے سےایک روز قبل کابل میں عراقی سفارت خانے پر حملہ ہوا تھا جس میں دو افغان شہری ہلاک ہوگئے تھے۔

انہوں نے کہا کہ سفارتی تنصیبات کا تحفظ ایک مسلمہ اصول ہے جس کا سب کو خیال رکھنا چاہیے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG