رسائی کے لنکس

logo-print

فواد چوہدری، سمیع ابراہیم تلخی سوشل میڈیا پر موضوع بحث


فائل

پاکستان میں وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری کا ایک اور تنازعہ سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے فیصل آباد میں ایک شادی کی تقریب کے دوران بول ٹی وی کے اینکر سمیع ابراہیم کو مبینہ طور پر سب مہمانوں کے سامنے تھپڑ دے مارا۔

اس واقعے کے بعد، مختلف صحافتی تنظیموں کی جانب سے احتجاج کیا جا رہا ہے، اور فواد چوہدری کے استعفے کا مطالبہ بھی کیا جا رہا ہے۔

وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری فیصل آباد میں ایک نیوز چینل کے مالک کی صاحبزادی کی شادی کی تقریب میں شریک تھے کہ اچانک ایک تھپڑ کی گونج سب کو سنائی دی اور اس کے بعد فواد چوہدری وہاں سے روانہ ہوگئے۔ یہ واقعہ گذشتہ رات پیش آیا جس کے بعد سوشل میڈیا پر اس کی گونج سنائی دے رہی ہے۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے صحافی سمیع ابراہیم نے کہا ہے کہ ان کی کوئی براہ راست بات فواد چوہدری سے نہیں ہوئی۔ بقول ان کے، اصل وجہ فواد چوہدری کے خفیہ طور پر پیپلز پارٹی سے رابطے اور ان کی خبر ہے۔

سمیع ابراہیم کا کہنا تھا کہ ’’اگر کسی کو خبر پر اعتراض ہے یا کوئی مسئلہ ہے تو اس کا حل تھپڑ مارنا یا تشدد کرنا نہیں ہے۔ فواد چوہدری نے ایک عرصہ سے سوشل میڈیا پر میرے خلاف مہم شروع کر رکھی ہے جس میں وہ ہتک آمیز الفاظ استعمال کرتے رہے ہیں۔‘‘

اس واقعہ کے عینی شاہد دنیا اخبار کے ریزیڈینٹ ایڈیٹر عادل حسین نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’یہ انتہائی افسوسناک واقعہ ہے۔ سیاستدانوں میں عدم برداشت کا کلچر سال 2013 کے انتخابات کے بعد دیکھنے میں آیا اور اب سیاست دان گالیوں سے ہوتے ہوئے تھپڑ مارنے تک آگئے ہیں۔‘‘

ماضی میں 90 کی دہائی میں سیاست میں ایک دوسرے کے ساتھ گالم گلوچ یا پھر تشدد کا عنصر سامنے آیا تھا۔ لیکن، پرویز مشرف کے دور میں ایسا کچھ نہیں تھا اور اب 2013 کے بعد سے پی ٹی آئی کی سیاست میں تنقید کو برداشت نہ کرنا اور ذاتی حملے کرنا بڑھتا جا رہا ہے۔

اس معاملہ پر وائس آف امریکہ نے وفاقی وزیر فواد چوہدری سے رابطے کی بارہا کوشش کی۔ لیکن ان کا ٹیلی فون مسلسل بند رہا۔ تاہم، صحافی عادل حسین نے کہا کہ ان کی فواد چوہدری سے اس واقعہ کے بعد بات ہوئی ہے جن کا کہنا تھا کہ ’’فواد چوہدری نے کہا ہے کہ وہ ایک عرصہ سے سمیع ابراہیم کی طرف سے پروپیگنڈے کو برداشت کر رہے تھے؛ لیکن اب ان کی برداشت سے یہ سب باہر ہوگیا تھا۔‘‘

صحافی عارف حمید بھٹی کے ٹویٹ کے جواب میں فواد چوہدری نے ٹوئٹر پر اس واقعے کے حوالے سے جواب دیا کہ ’’آپ کو غصہ صرف امیر اینکرز کیلئے کیوں آتا ہے۔ جب عابد راہی جیسے سیلف میڈ غریب صحافیوں کو سمیع ابراہیم جیسے مافیاز تنخواہیں نہیں دیتے اس وقت آپ کی صحافت خطرے میں کیوں نہیں آتی؟ دراصل صحافت کو خطرہ زرد صحافیوں سے ہے اور زرد صحافت کیخلاف مہم چلانا ہو گی۔‘‘

فواد چوہدری کے ترجمان نے بھی ایک بیان جاری کیا جس میں ان کا کہنا ہے کہ ’’فواد چوہدری اور سمیع ابراہیم کے مابین پیش آنے والے واقعے کو 2 اداروں میں تصادم سمجھنے کے بجائے اسے 2 اشخاص کے درمیان تنازع تصور کرنا چاہیے۔ ایک شخص نے دوسرے شخص کی عزت نفس کو مجروح کرنے کی کوشش کی تو متاثر ہونے والے شخص نے اس کا ردعمل دیا‘‘۔

مختلف صحافتی تنظیموں نے اس معاملے پر بھرپور اجتجاج کا اعلان کیا ہے۔ نیشنل پریس کلب کے صدر شکیل قرار کا کہنا ہے کہ فواد چوہدری کا یہ رویہ موجودہ حکومت کے صحافیوں کے ساتھ رویے کا عکاس ہے‘‘۔

انہوں نے کہا کہ ’’فواد چوہدری کی وزارت کے عرصے میں سینکڑوں صحافیوں کو ملازمتوں سے فارغ کیا گیا اور انہیں مالی مشکلات سے دوچار کیا گیا اور یہی رویہ اب تشدد کی صورت میں سامنے آ رہا ہے۔ یہ تھپڑ سمیع ابراہیم کے منہ پر نہیں بلکہ پوری پاکستانی صحافی برادری کے منہ پر مارا گیا ہے۔‘‘

سمیع ابراہیم اور فواد چوہدری کے درمیان تنازعہ گذشتہ ماہ اس وقت شروع ہوا جب اینکر سمیع ابراہیم نے اپنے پروگرام میں انکشاف کیا کہ وزارت اطلاعات واپس لیے جانے کے بعد فواد چوہدری پاکستان تحریک انصاف چھوڑنے کے لیے پرتول رہے ہیں اور ان کے پیپلز پارٹی کے مختلف رہنماؤں کے ساتھ رابطے ہوئے ہیں۔

اس خبر کے بعد، فواد چوہدری نے سختی سے تردید کی اور سمیع ابراہیم کو ٹوئٹر پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

فواد چوہدری پہلی مرتبہ کسی تنازعے میں نہیں گھرے بلکہ ماضی میں ان کے ہیلی کاپٹر کے سفر اور چاند سے متعلق بیانات بھی سوشل میڈیا اور عام میڈیا میں بحث کا موضوع بن چکے ہیں۔ حالیہ واقعے پر صحافیوں کا کہنا ہے کہ اگر کوئی خبر جھوٹی ہے یا کسی خبر پر اعتراض ہے تو اس کے لیے مختلف فورمز موجود ہیں۔ لیکن، کسی صحافی کو تھپڑ مارنا یا تشدد کرنا کسی طور قبول نہیں کیا جا سکتا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG