رسائی کے لنکس

logo-print

ہندوؤں کے خلاف متنازع بیان، فیاض الحسن چوہان مستعفی


فیاض الحسن چوہان

ہندو برادری کے بارے میں متنازع بیان دینے پر پنجاب کے وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان نے استعفیٰ دے دیا ہے اور وزیر اعلیٰ پنجاب نے اُن کا استعفیٰ منظور کر لیا ہے۔

صوبائی وزیر نے پاکستان اور بھارت کے مابین کشیدگی کے دوران ہندو برادری سے متعلق متنازع بیان دیا تھا جس کے بعد انہیں ہندو برادری اور خود ان کی جماعت کی جانب سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا ۔

فیاض الحسن چوہان نے منگل کی صبح اپنا ایک وضاحتی بیان بھی جاری کیا تھا جس میں ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے ہندو برادری نہیں بلکہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی بھارتی فوج، بھارتی میڈیا اور خفیہ ایجنسی را پر تنقید کی تھی۔

فیاض الحسن چوہان کے متنازع بیان پر پاکستان تحریک انصاف کے سینیئر رہنماؤں نے بھی مذمت کی تھی اور ان کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

وزیراعظم کے معاوِنِ خصوصی نعیم الحق نے ٹویٹ میں ہندو برادری کے بارے میں تذلیل آمیز بیان پر سخت کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

نعیم الحق نے ٹویٹ میں کہا تھا کہ تحریکِ انصاف کی حکومت سینیئر رکن کی جانب سے غیر سنجیدہ رویوں کو برداشت نہیں کرے گی اور وزیر اعلیٰ سے مشاورت کے بعد کارروائی کی جائے گی۔

جس کے بعد ترجمان وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز گل نے اپنے ویڈیو بیان میں آگاہ کیا کہ فیاض الحسن چوہان سے استعفیٰ لے لیا گیا ہے۔

ترجمان وزیر اعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ فیاض الحسن چوہان کا بیان ان کی ذاتی رائے تھی جسے وزیر اعلیٰ پنجاب نے سخت ناپسند کیا۔

پاکستان میں ہندوؤں کی بڑی تعداد مقیم ہے اور مسیحی برادری کے بعد ہندو برادری دوسری بڑی اقلیت ہے۔

سینیئر تجزیہ کار رسول بخش رئیس نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایسے غیر ذمے دار افراد کو کسی پارٹی میں نہیں ہونا چاہیئے۔

رسول بخش رئیس کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں محتاط رہنا چاہیئے تاکہ پاکستان اور بھارت میں کشیدگی سے ہندوستان کو موقع نہ ملے کہ وہ پاکستان کا منفی پہلو اجاگر کر سکے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ہندو اور سکھ برادری حالیہ کشیدگی میں پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑے تھے اس بیان سے ان کی دل آزاری ہوئی ہے۔

واضح رہے کہ پنجاب کے وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان ماضی میں بھی متنازع بیانات دیتے رہے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG