رسائی کے لنکس

انتخابات کے بروقت انعقاد سے متعلق شکوک و شبہات میں اضافہ


ایوان بالا (فائل فوٹو)

نئی حلقہ بندیوں کے لیے آئینی ترمیم تاحال ایوان بالا سے منظور نہیں ہو سکی اور اس بارے میں تین دفعہ منعقد ہونے والے سینیٹ کے اجلاسوں میں بغیر کسی پیش رفت کے مختلف وجوہات کی بنا پر اس مجوزہ ترمیم پر رائے شماری نہیں نہیں کی جا سکی۔

حکومت کے علاوہ الیکشن کمیشن بھی یہ کہہ چکا ہے کہ نئی مردم شماری کے بعد نئی حلقہ بندیاں ضروری ہیں اور اس میں تاخیر سے آئندہ عام انتخابات التوا کا شکار ہو سکتے ہیں۔

تمام پارلیمانی جماعتیں اس بات پر متفق ہیں کہ عام انتخابات کا وقت پر انعقاد ضروری ہے لیکن اس ضمن میں کی جانے والی قانون سازی پر پیپلزپارٹی سمیت مختلف جماعتوں کے تحفظات برقرار ہیں۔

دوسری طرف حکومت کو اسلام آباد میں مذہبی جماعت لبیک یارسول اللہ کے تین ہفتوں تک جاری رہنے والے احتجاجی دھرنے اور فوج کی ثالثی میں ایک معاہدے کے تحت دھرنا ختم کروانے پر بھی سیاسی و سماجی حلقوں کی طرف سے شدید تنقید کا سامنا ہے اور ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال میں غیر جانبدار حلقے شدومد کے ساتھ انتخابات میں تاخیر کا خدشہ ظاہر کر رہے ہیں۔

سیاسی امور کے تجزیہ کار اور جمہوریت کے فروغ کے لیے کام کرنے والی ایک غیر سرکاری تںظیم پلڈاٹ کے عہدیدار احمد بلال محبوب کے نزدیک آئندہ عام انتخابات کے انعقاد کے لیے صورتحال غیر یقینی کا شکار ہے۔

منگل کو وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ " شکوک و شہبات کی وجہ ایک تو نئی حلقہ بندیوں سے متعلق غیر یقینی صورتحال ہے دوسری طرف ملک میں امن و امان کی صورتحال خاص طور پر حالیہ دھرنے کے تناظر میں یہ کہ معاملہ پوری طرح حل نہیں ہوا ایک معاہدہ ہوا ہے اس کی بہت سی شقوں پر عمل ہو گا اور ابھی اختلافات کی گنجائش ہے کسی بھی وقت صورتحال پھر خراب ہو سکتی ہے۔"

ان کے بقول سیاسی جماعتوں کے درمیان محاذ آرائی بھی عروج پر ہے اور تلخی بڑھتی جا رہی ہے جس کی وجہ سے انتخابات کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا ہو گئے ہیں۔

حزب مخالف کی دوسری بڑی جماعت پاکستان تحریک انصاف قبل از وقت انتخابات کا مطالبہ بھی دہراتی آ رہی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ حالیہ دھرنے سے پیدا ہونے والی صورتحال نے بھی اس کے بقول ثابت کیا کہ حکومت ناکام ہو چکی ہے لہذا قبل از وقت انتخابات منعقد کروا کے عوام سے تازہ ترین مینڈیٹ حاصل کیا جائے۔

تاہم حکومت اس تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہتی ہے کہ نئے انتخابات کے لیے نئی حلقہ بندیوں کا ہونا لازمی ہے اور چیلنجز کے باوجود حکومت اپنی مدت پوری کرے گی۔

تجزیہ کار احمد بلال محبوب کے خیال میں تحریک انصاف کا مطالبہ دانشمندانہ نہیں ہے۔

"ان (پی ٹی آئی) کا خیال ہو گا کہ حکومت جلد رخصت ہو جائے اور انتخابات کروا لے لیکن مجھے ایسا نہیں لگتا۔ اگر حلقہ بندیاں نہیں ہوں گی تو انتخابات کیسے جلدی ہو جائیں گے ہاں کہیں کوئی ایسے لوگ ہیں جو ایسی چیزیں سوچ رہے ہیں جو ہمارے تصور میں نہیں آ رہیں جو قانون اور دستور میں لکھی چیزوں سے ماورا ہیں تو پھر الگ بات ہے لیکن بظاہر یہ بات مجھے سمجھ نہیں آتی۔"

ان کا کہنا تھا کہ اگر سیاستدان اختلافات کے باوجود مل کر اس معاملے پر متفق ہوں تو صورتحال میں بہتری کا امکان ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG