رسائی کے لنکس

logo-print

کراچی کی مویشی منڈی: نئے رنگ ڈھنگ، نئے انداز


اس وقت پوری منڈی میں ’لال بادشاہ ‘ نامی بچھڑا سب سے مشہور اور سب سے مہنگا خیال کیا جارہا ہے۔ اس کی قیمت 30 لاکھ روپے لگ چکی ہے۔ اسی طرح ایک اور بچھڑے جس کا وزن تیرہ من کے قریب ہےچودہ لاکھ روپے میں بیچا جارہا ہے۔

کراچی میں قربانی کے جانوروں کے لئے لگنے والی عارضی منڈی پچھلے دو دنوں کے دوران طوفانی بارش کے سبب افتتاح کے ایک ہفتے بعد ہی مسائل میں گھر گئی ہے۔ اس کا باقاعدہ افتتاح پچھلے ہفتے آج ہی کے دن ہوا تھا۔

گزشتہ سال بیوپاریوں کو سب سے زیادہ شکایت یہ تھی کہ انہیں اور ان کے جانوروں، دونوں کو پینے کا پانی نہیں مل رہا جبکہ ان دنوں منڈی’ پانی پانی‘ ہو رہی ہے, لیکن بیوپاریوں، انتظامیہ اور منڈی دیکھنے کے لئے یہاں آنے والے شوقین افراد کی آمد کا تانتا اب بھی بندھا ہوا ہے۔

منگل کی رات ہونے والی بارش سے گائے بھینسوں کے گھٹنوں تک پانی جمع ہو گیا تھا جبکہ منگل اور بدھ کی درمیانی شب کے طوفان نے وہ تباہی پھیلائی ہے کہ بیوپاریوں کے ٹینٹ اکھڑ گئے، بجلی منقطع ہوگئی، پولز اور تاریں توٹ کر بکھیر گئیں اور وی آئی پی بلاکس میں لگے بڑے بڑے ہورڈنگز اور بورڈز زمین بوس ہو گئے۔ اس کے باوجود تمام لوگوں کو یقین ہے کہ یہ سب مسائل عارضی ہیں اور ہر سال دیکھنے کو ملتے ہیں۔

ایشیاء کی سب سے بڑی منڈی
منڈی انتظامیہ کے ترجمان حارث خانزادہ کے دعوے کے مطابق ’’یہ ایشیاء کی سب سے بڑی مویشی منڈی ہے۔ یہاں ہر سال تین سے ساڑھے تین لاکھ جانوروں کی خرید و فروخت ہوتی ہے۔ رقبے کے لحاظ سے دیکھیں تو یہ تقریباً 900 ایکٹر رقبے پر قائم ہے۔ 26 بلاکس بنائے گئے ہیں جن میں سے چار بلاکس ’وی آئی پی‘ جانوروں کے لئے ہیں۔ موسم پر تو کسی کو اختیار نہیں، بارش کا مسئلہ عارضی ہے۔‘‘

جب ہم نے ان سے یہ پوچھا کہ بھلا جانور کس طرح ’وی آئی پی‘ ہو سکتے ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ ’’وی آئی پی‘‘ سے مراد غیر معمولی طور پر لمبے چوڑے، اعلیٰ نسل اور مہنگے جانورہیں ۔‘‘

ان کی مزید خصوصیات پوچھیں تو بولے ’’ان جانوروں کی دن رات خدمت کی جاتی ہے، خوشبو والے مہنگے تیل سے ان کی مالش کی جاتی ہے، ان کے کھانے تک اسپیشل ہوتے ہیں۔ انہیں دیسی فیڈ، گھی، مکھن، میوے، دودھ ، ملائی، ربڑی اور نہایت اعلیٰ کھل اور دیگر اشیاء کھلائی جاتی ہیں۔‘‘

بڑے بیوپاری، بڑی باتیں
جانوروں کے زیادہ دام ہونے کی ایک بڑی وجہ اس شعبے میں ہونے والی بھاری سرمایہ کاری بھی ہے۔ پہلے کے مقابلے میں اب شعبے میں بہت بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری ہونے لگی ہے۔ زیادہ تر بیوپاریوں نے بڑے بڑے کیٹل فارمز کھول لئے ہیں جہاں سال بھر جانور پالے جاتے ہیں۔ ایک ایک فارم پر کئی کئی درجن انتہائی قیمتی، نادر، اعلیٰ نسل اور غیر ممالک سے لائے گئے جانوروں کی کراس بیڈ پر سرمایہ خرچ کیا جاتا ہے۔ سال بھر بعد جب یہی جانور منڈی جاتے ہیں تو وہاں بھی ان کے کھانے پینے، رکھنے رکھانے کے غیر معمولی انتظامات کئے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان جانوروں کو ’ وی آئی پی ‘ خیال کیا جاتا ہے۔

ان وی آئی پی جانوروں کے باقاعدہ نام رکھے جاتے ہیں جیسے اس وقت پوری منڈی میں ’لال بادشاہ ‘ نامی بچھڑا سب سے مشہور اور سب سے مہنگا خیال کیا جارہا ہے۔ اس کی قیمت 30 لاکھ روپے لگ چکی ہے۔ اسی طرح ایک اور بچھڑے جس کا وزن تیرہ من کے قریب ہے چودہ لاکھ روپے میں بیچا جارہا ہے۔ یہاں ہلکے سے ہلکا جانور بھی دو ڈھائی لاکھ روپےسے کم کا نہیں۔

اسی طرح 30 من زیادہ وزنی ایک اور بچھڑا ’بادشاہ خان ‘35 لاکھ روپے میں فروخت کے لئے دستیاب ہے۔ اس کے مالک نیاز محمد کے مطابق ابھی یہ بچھڑا صرف پانچ سال کا ہے، روزانہ دس کلو دودھ پیتا ہے اورپندرہ کلو جوار اور تقریباً اتنے ہی کلو گندم کھاتا ہے۔

انتظامیہ اور ٹھیکے دار کیا کہتے ہیں؟
منڈی کا ٹھیکہ ملیر کنٹونمنٹ بورڈ کی جانب سے دیا جاتا ہے۔ اس بار کے ٹھیکے دار’ حسن برادرز‘ ہیں جن کے چیف ایگزیکٹو، سیّد ارشاد احمدہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ منڈی میں ہر سال ڈھائی سے تین لاکھ بڑے جانور یعنی گائے، بیل، اونٹ اور بچھڑے وغیرہ اور ڈیڑھ لاکھ چھوٹے جانور یعنی دنبے اور بکرے وغیرہ فروخت کے لیے لائے جاتے ہیں۔

بورڈ کے صدر بریگیڈیئر وسیم بھٹی کا کہنا ہے ’ مختصر وقت میں اتنی بڑی منڈی کے لیے جگہ تیار کرنا اور اتنی سہولتیں مہیا کرنا ایک مشکل کام تھا لیکن شہری اور صوبائی حکومت کے تعاون سے یہ مرحلہ بخوبی طے کر لیا گیا ہے۔ تاہم ناگہانی پریشانی پر کسی کا زور نہیں چلتا۔ اس بار بادل بھی غیر معمولی طور پر اس زور سے کڑکے ہیں کہ مسائل پیدا ہو گئے جن پر قابو پانے کی پوری پوری کوشش کی جا رہی ہے۔ ‘‘

گاہک کی بھی سیئے
ایسے میں گاہک کیا کہتے ہیں ان کی بھی سنئے۔ بفر زون سے آئے ہوئے کامران عباسی نے وی او اے سے بات چیت میں کہا ’’بیوپاری سب کچھ کرنے کو تیار ہیں لیکن قیمتیں کم کرنے کو تیار نہیں۔ گائے کی قیمتیں سن کر کان پکڑ لئے ہیں، سوچتا ہوں اب کے بکرا ہی قربان کر دوں ۔‘‘

گلستان جوہر سے آئے ایک اور صاحب کا کہنا تھا ’’ بکروں کی قیمت کون سی کم ہے۔ بکرا بھی ہزاروں سے شروع ہو کر لاکھ تک پہنچ ہوا ہے۔‘‘

خدشات کے بادل
منڈی پر اس بار کچھ مزید خدشات کے بادل چھائے ہوئے ہیں جن میں کانگو وائرس کا مسئلہ سب سے سنگین ہے۔ پچھلے سال بھی جانوروں سے رابطے میں رہنے والے لوگوں اور قصاب کو خاص طور سے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا کہا گیا تھا جبکہ سارے سال کے دوران کانگو وائرس سے 10 ہلاکتیں رپورٹ ہو چکی ہیں۔

احتیاط کیجئے ۔۔
صوبائی وزیر لائیو اسٹاک محمد علی ملکانی کا کہنا ہے کہ منڈی میں سندھ ویٹرینری ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے 12 ویٹرنری ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف پر مشتمل ٹیمیں تعینات کی گئی ہیں جو چوبیس گھنٹے فرائض انجام دے رہی ہیں۔

نمائندے ایک سوال پر ارشاد حسین نے بتایا کہ صوبائی حکومت، محکمہ لائیو اسٹاک اور ہسبنڈری نے قربانی کے جانوروں کی صحت یقینی بنانے اور عوام کو کانگو وائرس و دیگر بیماریوں کے روک تھام کے لیے شہر کے داخلی مقام پر ایک خصوصی سیل قائم کیا ہے جہاں ہر جانور کو چیک کر کے اس کے صحت مند ہونے کا سرٹیفکیٹ جاری کیا جاتا ہے۔ بیوپاری کو منڈی میں جانور لاتے وقت یہ سرٹیفکیٹ چیک کرانا ضروری ہے۔ اس کے بغیر جانور منڈی میں نہیں لائے جا سکتے۔‘

قومی ادارہ صحت کے حکام سے نمائندے نے گفتگو کی تو محکمے نے درخواست کی کہ میڈیا کانگو فیور سے بچنے کے لئے خاص احتیاطی تدابیر سے آگاہی پر زور دے۔ جیسے مویشی منڈی جاتے ہوئے ہلکے رنگ والے پوری آستین کے کپڑے اور جوتے پہننے کا مشورہ دیا گیا۔ جانور خریدنے سے پہلے اچھی طرح یہ یقین کہ اس کے جسم پر چیچڑیاں نہ ہوں۔ انہی چیچڑیوں کی انسانوں تک منتقلی سے کانگو فیور پھیلتا ہے۔

قومی ادارہ صحت کے مطابق ملک میں رواں سال اب تک 40 سے زائد کیس رپورٹ ہو چکے ہیں جبکہ اس مرض سے ہونے والی 10 ہلاکتیں اس کے علاوہ ہیں۔

کچھ نئے منظر
اس بار منڈی کچھ نئے منظر بھی لئے ہوئے ہے مثلاً منڈی میں مساجد، ہوٹلز، بینکس، اے ٹی ایمز، فائربریگیڈ اور سی سی ٹی وی کیمرے جگہ جگہ آپ کو نظر آ جائیں گے۔

گائے، بیل، بکرے، دنبے، مینڈھے اور اونٹ سجانے کے لئے جگہ جگہ مختلف قسم کا سامان بکتا ہوا بھی آپ کو بخوبی نظر آجائے گا۔ ایک دکاندار نے ہمیں بتایا ’جانوروں کو سجانے کے شوقین افراد کی بھی کمی نہیں۔ سینکڑوں روپے بھی خرچ کرنے والے آپ کو مل جائیں گے۔ ‘‘

یہاں چمڑے اور ریگزین کے بنے مہرے بھی دستیاب ہیں جن پر رنگ برنگے موتی جڑے ہیں۔ جبکہ پلاسٹک کے ہار، جھانجھر، ریشی اور سوتی رسّیاں، خوب صورت اور مضبوط پٹے، گھنگھرو اور دیگر سجاوٹی سامان اس کے علاوہ ہے۔

اس بار جانوروں کو گاڑی سے اتارنے اور چڑھانے کے لیے منڈی میں مختلف مقامات پر پختہ ریمپس بھی بنائی گئی ہیں ورنہ پچھلے سال تک مٹی یا ریت بچھاکر یہ کام لیا جاتا تھا۔ اسی طرح منڈی میں اس بار گھاس اور چارے کی دکانیں بھی بڑی تعداد میں موجود ہیں ۔

سیکورٹی کا بھی خاصا اچھا انتظام کیا گیا ہے، بس دو دنوں کی بارش سے پہلے پانی اور اب کچڑا نے کچھ معاملات بگاڑ دیئے ہیں جو شاید جمعرات کی شام تک درست ہو جائیں گے۔

منڈی میں بنایا گیا عارضی پارکنگ ایریا بھی کئی مسائل کی جڑ بنتا رہا ہے۔ کبھی ٹھیکہ مہنگے داموں بکتا ہے تو کرایہ بڑھا دیا جاتا ہے اور کبھی جگہ نہ ہونے پر لڑائیوں اور گالم گلوچ کی شکایات موصول ہوتی ہیں۔ تاہم اس بار منڈی کے باہر پارکنگ مفت ہے۔ اس لئے مسائل بھی نہ ہونے کے برابر ہیں۔

بیوپاریوں کو جنریٹرز اور گاہکوں کو آن لائن جانوروں کی خریداری کی سہولت حاصل ہے۔ جو لوگ کسی سبب منڈی نہیں آ سکتے وہ آن لائن خریداری کر سکتے ہیں۔ اس خریداری کا طریقہ کار مشینی ہے اور بیشتر افراد نے اسے پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا ہے۔

XS
SM
MD
LG