رسائی کے لنکس

logo-print

ٹرمپ کے دوست کے خلاف مقدمے میں 'مداخلت' پر امریکی ججوں کا ہنگامی اجلاس


فائل فوٹو

امریکہ میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی ساتھی کے خلاف مقدمے میں محکمہ انصاف کی مبینہ مداخلت کے معاملے پر ججوں کی قومی ایسوسی ایشن نے بدھ کو ایک ہنگامی اجلاس بلا لیا ہے۔

'انڈیپینڈنٹ فیڈرل ججز ایسوسی ایشن' کی سربراہ اور ڈسٹرکٹ جج سنتھیا روف نے وائس آف امریکہ کو بتایا ہے کہ امریکی ججوں کو اس بات پر تشویش ہے کہ ججوں پر انفرادی حملے ہو رہے ہیں اور یہی اصل مسئلہ ہے جو اس میٹنگ میں زیرِ بحث لایا جائے گا۔

سنتھیا روف نے مزید معلومات دینے سے انکار کیا۔ البتہ انہوں نے کہا کہ جیوری اپنی معمول کی میٹنگ تک انتظار نہیں کر سکتی۔

امریکی محکمہ انصاف نے گزشتہ ہفتے سیاسی اور قانونی برادری کو اس وقت حیران کر دیا تھا جب انہوں نے اپنے ہی پراسیکیوٹرز کی سفارشات کے برخلاف صدر ٹرمپ کے قریبی دوست راجر اسٹون کو کم سزا دینے کی سفارش کی تھی۔

راجر اسٹون صدر ٹرمپ کے بااعتماد ساتھیوں میں شمار ہوتے ہیں۔ ان پر امریکی کانگریس سے جھوٹ بولنے، گواہی میں تبدیلی اور انصاف کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کے الزامات ثابت ہوئے ہیں۔ جس پر انہیں جمعرات کو سزا سنائی جانی ہے۔

اس کیس کے پراسیکیوٹرز نے سفارش کی تھی کہ اسٹون کو سات سے نو سال قید کی سزا دی جائے۔ یہ سفارش اس قسم کے جرائم کی سزا کو مدنظر رکھ کر کی گئی تھی۔

لیکن محکمہ انصاف نے صدر ٹرمپ کے ٹوئٹ کے بعد اسٹون کے لیے 'کم سزا' کی سفارش کی تھی۔ صدر ٹرمپ نے اپنے ٹوئٹ میں کہا تھا کہ سات سے نو سال قید خوفناک اور نا انصافی ہے۔

محکمہ انصاف کی جانب سے کی جانے والی سفارش کے بعد تین پراسیکیوٹرز نے کیس سے علیحدگی اختیار کر لی تھی جب کہ ایک نے ایجنسی کے ساتھ کام کرنا ہی ختم کر دیا تھا۔

اسٹون کی سزا کا فیصلہ جج ایمی برمن جیکسن کریں گی اور وہ اپنا فیصلہ جمعرات کو سنائیں گی۔

جج سنتھیا روف نے کہا ہے کہ فیڈرل ججز ایسوسی ایشن کو اسٹون کے مقدمے سے کوئی دلچسپی نہیں لیکن وہ جج ایمی جیکسن کو سپورٹ کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہم ہر اس جج کی حمایت میں کھڑے ہیں جو ضرورت کے عین مطابق فیصلے کرتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG