رسائی کے لنکس

logo-print

امریکی اداکارہ فلسٹی کو بیٹی کے امتحان میں رشوت دینے پر جیل ہو گئی


اداکارہ فلسٹی ہافمین سزا سننے کے بعد عدالت سے اپنے شوہر کے ساتھ واپس جا رہی ہیں۔ 13 ستمبر 2019

امتحانات میں نمبر بڑھوانے کے لیے رشوت دینے اور اثر و رسوخ استعمال کرنے کی خبریں تو پاکستان میں اکثر سننے میں آتی رہتی ہیں۔ حال ہی میں پنجاب کی ایک سیاسی شخصیت کے متعلق میڈیا پر یہ بتایا جا رہا ہے کہ انہوں نے فزکس کے پریکٹیکل میں اپنے بیٹے کے نمبر بڑھوانے کے لیے دباؤ ڈالا تھا، جس کی وہ تردید کر چکے ہیں۔

امتحانات میں اپنے بچوں کے نمبر بڑھوانے کے واقعات ترقی یافتہ ملکوں میں بھی پیش آتے ہیں۔ ایک ایسا ہی واقعہ کچھ عرصہ پہلے امریکہ میں بھی پیش آیا تھا جس میں کئی صاحب حیثیت والدین پر یہ الزام لگا کہ انہوں نے اپنے بچوں کے نمبر بڑھوانے کے لیے بھاری رشوت دی۔ ان والدین میں معروف امریکی اداکارہ فلسٹی ہافمین بھی شامل ہیں جنہیں آج عدالت نے سزا سنا دی ہے۔

فلسٹی اپنی بیٹی کو کسی اچھے کالج میں داخل کرانا چاہتی تھیں۔ مگر اچھے کالجوں کا میرٹ بہت اونچا ہوتا ہے اور وہاں صرف انہی امیدواروں کو داخلہ ملتا ہے جنہوں نے ایس اے ٹی میں زیادہ نمبر لیے ہوں۔

فلسٹی نے اپنی بیٹی کو ایس اے ٹی میں زیادہ نمبر دلوانے کے لیے 15000 ڈالر رشوت دی۔ مگر اس کا پتا چل گیا اور ان کے خلاف مقدمہ دائر ہو گیا۔

جمعے کے روز عدالت نے انہیں 15،000 ڈالر کی رشوت دینے کے الزام میں 14 روز کے لئے جیل بھیج دیا ہے۔

56 سالہ ہافمین ان 34 والدین میں سے پہلی ہیں جنہیں اس سلسلے میں سزا ہوئی ہے۔ انہیں 30،000 ڈالر کا جرمانہ بھی ادا کرنا پڑے گا اور نگرانی میں 250 گھنٹوں کے لیے سماجی خدمت کے کام بھی کرنا ہوں گے۔

سزا ہونے سے پہلے، ہافمین نے بتایا کہ ان کی بیٹی نے اِن سے پوچھا تھا کہ وہ اس پر اعتماد کیوں نہیں کرتیں۔ ہافمین کا کہنا تھا کہ وہ اپنی بچی سے صرف یہ ہی کہہ سکیں کہ انہیں بہت افسوس ہے۔ انہوں نے کہا وہ بے وقوف تھیں اور انہوں نے غلطی کی اور یہ کہ وہ اپنے کئے پر شرمندہ ہیں۔

ایس اے ٹی میں نمبر بڑھوانے کے سکینڈل میں 51 لوگوں کے نام آئے تھے جن پر مقدمے چلائے گئے۔

امریکی تاریخ میں محکمہ انصاف کی جانب سے یہ پہلا ایسا مقدمہ ہے جس میں والدین پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے رشوت دے کر اپنے بچوں کا داخلہ کرایا۔

اس اسیکنڈل میں امریکہ کی معروف ترین یونیورسٹیوں کے نام سامنے آئے جن میں ییل، سٹین فورڈ، جارج ٹاؤن اور یو سی ایل اے شامل ہیں۔ اس اسیکنڈل سے انكشاف ہوا کہ والدین اپنے بچوں کے اچھے کالجوں اور یونیورسٹیوں میں داخلے کے لئے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔

اس اسکینڈل سے ان خدشات کو بھی تقویت ملی ہے کہ کالجوں میں داخلے کا نظام خراب ہے جو امیروں کے حق میں جاتا ہے۔

اس مقدمے کے فیصلے کو اس نظر سے بھی دیکھا جا رہا ہے کہ دیگر ملزمان کے ساتھ کیا سلوک ہو گا۔

آئندہ ماہ کے دوران، تقریبا ًدرجن بھر مزید والدین کو سزا سنائی جائے گی۔ 15 کے قریب والدین نے اپنے جرام کا اعتراف کیا ہے، جب کہ 19 مقدمہ لڑ رہے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG