رسائی کے لنکس

logo-print

فرگوسن میں صورت حال بدستور کشیدہ، ملک بھر میں مظاہرے


فرگوسن میں نیشنل گارڈ کے مزید دو ہزار سے زائد فوجیوں کو تعینات کیا گیا ہے، مائیکل براؤن کے اہل خانہ نے لوگوں سے تحمل کی اپیل کی ہے۔

امریکہ کی ریاست مزوری میں گرینڈ جیوری کے جانب سے سیاہ فام نوجوان کے قتل میں پولیس اہلکار کو مجرم قرار نا دینے کے فیصلے کے بعد دوسرے روز بھی صورت حال کشیدہ رہی۔

جب کہ واشنگٹن سمیت امریکہ کے مختلف شہروں میں گرینڈ جیوری کے فیصلے کے بعد متاثرہ خاندان کے ساتھ یکجہتی کے لیے مظاہرے کیے گئے۔

مزوری میں ہنگاموں پر قابو پانے کے لیے نیشنل گارڈز کی مزید نفری بھی تعینات کی گئی ہے۔

گرینڈ جیوری کے فیصلے سے قبل بھی کسی بھی طرح کی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے علاقے میں 700 نیشنل گارڈز کو طلب کیا گیا تھا۔

جب کہ مزوری کے گورنر جے نکسن کے مطابق صورت حال پر قابو پانے کے لیے مزید دو ہزار سے زائد نیشنل گارڈز کو تعینات کیا گیا ہے۔

کئی ماہ تک شواہد اور بیانات کا جائزہ لینے والی گرینڈ جیوری نے سیاہ فام نوجوان کو گولی مار کر ہلاک کرنے والے سفید فام پولیس افسر ڈیرن ولسن پر فرد جرم عائد نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

ریاست کے علاقے فرگوسن جہاں 18 سالہ سیاہ فام مائیکل براؤن گولی لگنے سے ہلاک ہوا تھا، وہاں جیوری کے فیصلے کے بعد ہنگامے شروع ہو گئے۔

متعدد عمارتوں اور گاڑیاں نذر آتش کر دی گئیں جب کہ دکانوں میں لوٹ مار بھی کی گئی۔

اگرچہ مائیکل براؤن کے اہل خانہ نے جیوری کے فیصلے پر ’شدید مایوسی‘ کا اظہار کیا لیکن اُنھوں نے لوگوں سے تحمل کی اپیل کی ہے۔

جیوری کے فیصلے کے بعد صدر براک اوباما کی طرف سے بھی ایک بیان میں کہا گیا کہ براؤن کے اہل خانہ کے اس موقف پر وہ ان کے ساتھ ہیں کہ "فیصلے کے خلاف جو بھی احتجاج کرے وہ پرامن رہے"۔

مائیکل براؤن کے اہل خانہ کی طرف سے فرگوسن میں تشدد کی کارروائیوں کی مذمت کی گئی۔

پولیس کے مطابق سینٹ لوئی کے مضافات میں 61 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

رواں سال نو اگست کو پیش آنے والے فائرنگ کے اس واقعے کے بعد اس علاقے میں تواتر سے مظاہرے دیکھنے میں آئے جنہوں نے اکثر پرتشدد صورت بھی اختیار کی۔

پولیس افسر ڈیرن ولسن کے وکلاء کا کہنا تھا کہ گرینڈ جیوری اس بات پر متفق تھی کہ پولیس افسر کا اقدام قوانین اور پولیس کے قواعد کے مطابق تھا۔

پیر کو سینٹ لوئس کاؤنٹی کے وکیل رابرٹ پی میکلاوچ نے گرینڈ جیوری کا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ "شواہد کا باریک بینی سے جائزہ لینے کے بعد" جیوری کے ارکان قائل ہیں کہ ایسی کوئی وجہ نہیں جس کے تحت ولسن پر فرد جرم عائد کی جائے۔

وکیل میکلاوچ کا کہنا تھا کہ جیوری نے 70 گھنٹوں سے زائد وقت پر محیط بیانات سنے اور شواہد کا تفصیلی جائزہ لیا۔

انھوں نے براؤن کے لواحقین سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "تمام لوگ اس معاملے پر بحث اور مظاہرے جاری رکھیں لیکن تعمیری انداز میں ہوں۔"

XS
SM
MD
LG