رسائی کے لنکس

عمران کو بطور ہندو دیوتا دکھانے کے معاملے کی تحقیقات کی ہدایت


حزب مخالف کے رہنما عمران خان (فائل فوٹو)

لعل چند نے بتایا کہ جس شخص نے بھی ابتدائی طور پر یہ متنازع پوسٹ شئیر کیں ان کے بقول اسے اس معاملے کی حساسیت کا شعو ر نہیں تھا۔

پاکستان کی ایک پارلیمانی کمیٹی نے وفاقی تحقیقاتی ادارے 'ایف آئی اے' کو ان افراد کی نشان دہی کرنے کی ہدایت کی ہے جنہوں نے مبینہ طور پر سوشل میڈیا پر ایسی متنازع تصاویر پوسٹ کی جن میں حزب مخالف کی جماعت تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کو ہندو دیوتا 'شیوا' کے روپ میں دکھایا گیا تھا۔

ہندو برادری کے رہنما اور قانون ساز لعل چند ملہی نے ہفتہ کو وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جمعہ کو قومی اسمبلی کی کمیٹی کے اجلاس میں ایف آئی اے کے حکام کو کہا گیا کہ وہ ان افراد کا کھوج لگائیں جنہوں نے یہ تصاویر سوشل میڈیا پر پوسٹ کی تھیں۔

لعل چند ملہی نے کہا کہ انہوں نے ایف آئی اے کے حکام سے ملاقات میں انہیں اس معاملے کی حساسیت سے آگاہ کرتے ہوئے ان پر زور دیا کہ وہ اس میں ملوث افراد کو سامنے لا کر انہیں قانون کے کٹہرے میں لانے کے لیے اقدام کریں۔

انہوں نے کہا کہ ایف آئی اے کے سربراہ بشیر میمن نے انہیں بتایا کہ وہ اس معاملے میں ملوث افراد کا کھوج لگانے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں اور ان اکاؤنٹس کی نشان دہی کے لیے انہوں نے فیس بک سے رابطہ کیا ہے۔

لعل چند نے بتایا کہ جس شخص نے بھی ابتدائی طور پر یہ متنازع پوسٹ شئیر کیں ان کے بقول اسے اس معاملے کی حساسیت کا شعو ر نہیں تھا۔

"بظاہر یہ معلوم یہ ہوتا ہے جس شخص نے یہ پوسٹ سب سے پہلے شئیر کی وہ احساس سے عاری شخص تھا اور صرف عمران خان کو نشانہ بنانے کے لیے یہ پوسٹ شیئر کی تھی اور وہ اس معاملے کی حساسیت سے آگاہ نہیں تھا کہ وہ کیا کر رہا ہے۔ "

انہوں نے کہا کہ ایسے معاملات کی روک تھام کے لیے جہاں انتظامی اقدام کی ضرورت ہے وہیں بین المذاہب آہنگی اور ایک دوسرے کے مذہب کے معاملے میں آگہی کو فروغ دینے کی بھی ضرورت ہے۔

واضح رہے کہ ہندو برادری کے قانون ساز رمیش کمار ونکوانی کے مسلم لیگ (ن) کو چھوڑ کو تحریک انصاف میں شامل ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر ایک متنازع تصویر پوسٹ کی گئی جس میں تحریک انصاف کے سربراہ کو ایک ہندو دیوتا کے روپ میں دکھا یا گیا تھا۔ جس کے بعد رمیش کمار نے یہ معاملہ قومی اسمبلی میں اٹھایا اور اسپیکر قومی اسمبلی نے بعد ازاں اس معاملے کو ایک کمیٹی کے سپرد کر دیا۔

اس متنازع پوسٹ کے منظر عام پر آنے کے بعد بعض حلقوں نے اس اقدام پر اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے ان افراد کے خلاف سخت اقدام کا مطالبہ کیا جو اسے سوشل میڈیا پرپھیلانے کے ذمہ دار تھے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG