رسائی کے لنکس

logo-print

مشرقی افغانستان میں بم دھماکے سے 15 شہری ہلاک 


فائل فوٹو

افغانستان میں حکام کا کہنا ہے کہ جمعے کے روز افغانستان کے مشرقی صوبے غزنی میں ہونے والے ایک بم دھماکے میں 15 شہری ہلاک ہو گئے ہیں جن میں زیادہ تر بچے تھے۔

افغان وزیر داخلہ طارق افغان کا کہنا ہے کہ دھماکہ خیز مواد ایک رکشے میں رکھا ہوا تھا اور اسے ضلع گیلان میں ہونے والی ایک تقریب کے قریب کھڑا کر دیا گیا تھا۔اس تقریب میں قرآن پڑھا جا رہا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ زور دار دھماکے سے 20 افراد زخمی ہو گئے۔ جمعے کے روز ہونے والے اس دھماکے میں جو افراد ہلاک ہوئے، ان میں سے اکثر کی عمریں 18 برس سے کم تھیں۔

ابھی تک کسی گروپ نے اس دھماکے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ نہیں کیا۔

اس علاقے کا کنٹرول طالبان کے پاس ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ دھماکہ کسی ایسے بارودی گولے میں ہوا جو پھٹا ہوا نہیں تھا۔ دھماکے کی زد میں آنے والے کچھ افراد ناکارہ بم اور دوسرے ہتھیار بیچ رہے تھے۔

دوحہ میں ہونے والے افغان امن مذاکرات میں حصہ لینے والا سرکاری وفد
دوحہ میں ہونے والے افغان امن مذاکرات میں حصہ لینے والا سرکاری وفد

طالبان کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں 12 بچے بھی شامل ہیں۔

طالبان کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ لوگ اس طرح کی خرید و فروخت سے خود کو دور رکھیں۔

حالیہ دنوں میں افغانستان میں تشدد کی لہر سے درجنوں جانیں ضائع ہو چکی ہیں جن میں عام شہریوں سمیت افغان حکومت کی فورسز کے اہل کار اور طالبان جنگجو بھی شامل ہیں۔

تشدد کے یہ واقعات ایک ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب کہ افغان حکومت اور طالبان ستمبر سے امن مذاکرات جاری رکھے ہوئے ہیں اور حال ہی میں دونوں فریقوں نے بات چیت جاری رکھنے کے لیے مذاکرات کے ضوابط پر اتفاق کیا ہے۔

دونوں فریقوں نے مذاکرات میں 14دسمبر سے 5 جنوری تک کا وقفہ لیا ہے اور اس کے بعد مذاکرات دوبارہ شروع ہو جائیں گےجن کامقصد 19 سالہ جنگ کے خاتمے اور پائیدار امن کے لیے اتفاق رائے سے راستہ تلاش کرنا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG