رسائی کے لنکس

logo-print

ترکی کا اپنے ہوائی اڈے ’استعمال کرنے کی اجازت پر رضامندی کا اظہار‘


امریکہ کی قومی سلامتی کی مشیر سوزن رائس نے کہا کہ ترکی کی طرف سے ’’یہ نیا عہد ہے اور ہم اس کا خیر مقدم کرتے ہیں۔‘‘

امریکہ کی قومی سلامتی کی مشیر سوزن رائس نے کہا ہے کہ ترکی نے عراق اور شام میں ’دولت اسلامیہ‘ کے خلاف لڑائی میں امریکہ اور اتحادی فورسز کو ہوائی اڈے استعمال کرنے کی اجازت پر رضا مندی ظاہر کر دی ہے۔

امریکی ٹی وی چینل ’این بی سی‘ کے پروگرام میں سوزن رائس نے کہا کہ ترکی کی طرف سے ’’یہ نیا عہد ہے اور ہم اس کا خیر مقدم کرتے ہیں۔‘‘

اُنھوں نے کہا کہ ’’ہم نے ترکوں سے یہ نہیں کہا کہ وہ اپنی زمینی فورسز شام میں بھیجیں۔‘‘

امریکہ اور اس کے اتحادی شام اور عراق میں دولت اسلامیہ کے ٹھکانوں کو فضائیہ کی مدد سے نشانہ بناتے آئے ہیں۔

واضح رہے کہ ترکی کی سرحد کے قریب واقع شام کے علاقے کوبانی میں کرد ملیشیا اور دولت اسلامیہ کے شدت پسندوں کے درمیان شدید لڑائی کی اطلاعات ہیں۔

امریکہ کی فوجی کمانڈ نے کہا کہ اس کے لڑاکا طیاروں نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے طیاروں کے ساتھ مل کر ہفتہ اور اتوار کو کوبانی میں چار فضائی کارروائیاں کیں جن میں عسکریت پسندوں کی صفوں کو نشانہ بنایا گیا۔

برطانیہ میں قائم تنظیم 'سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس' کے مطابق لڑائی میں شدت پسندوں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون کا کہنا ہے کہ کوبانی پر قبضہ حاصل کرنے کی لڑائی میں "ہزاروں زندگیاں داو پر لگی ہوئی ہیں"۔ انھوں نے فریقین کو متنبہ کرتے ہوئے ان پر زور دیا کہ "قتل عام سے بچیں اور شہریوں کو تحفظ فراہم کریں۔"

ترکی کے صدر رجب طیب اردوان پر صورتحال میں مداخلت کے لیے عالمی دباو میں اضافے کے باوجود سرحد پر موجود ترک فوجی اس ساری صورتحال سے لاتعلق کھڑے ہیں۔

خطے میں موجود اقوام متحدہ کے حکام متنبہ کر چکے ہیں کہ اگر کوبانی کا قبضہ شدت پسندوں کے پاس چلا جاتا ہے تو شہر کے مرکزی علاقے میں موجود سینکڑوں معمر افراد سمیت لگ بھگ 12 ہزار کرد " ممکنہ طور پر قتل و غارت گری کا نشانہ بنیں گے۔"

سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نے بتایا تھا کہ ہفتہ کی صبح تک دولت اسلامیہ کے شدت پسند کوبانی کے 40 فیصد حصے پر قبضہ کر چکے تھے۔

XS
SM
MD
LG