رسائی کے لنکس

logo-print

مشرقی یوکرین میں لڑائی پھر شدت اختیار کر گئی


باغیوں کے حکام نے نوولاسپا پر حملے کی تردید کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ باغیوں کے یونٹس پہلے ہی یہاں موجود تھے اور یہ الزام عائد کیا کہ یوکرینی فورسز نے گاؤں پر گولہ باری کی۔

یوکرین کی فورسز اور علیحدگی پسندوں کے درمیان مشرقی یوکرین میں ایک بار پھر شدید لڑائی کی اطلاعات ہیں اور اسی تناظر میں صدر پٹرو پوروشنکو نے اپنے وزیرخارجہ سے کہا ہے کہ وہ فوری طور پر جرمنی، فرانس اور روس کے اپنے ہم منصبوں سے بات چیت کریں۔

یوکرین کے صدر کی ویب سائٹ کے مطابق لگ بھگ 200 علیحدگی پسند جنگجوؤں نے ٹینکوں کی مدد سے نوولاپسا نامی گاؤں پر حملہ کیا۔ یہ گاؤں علیحدگی پسندوں کے مضبوط گڑھ ڈونٹسک اور حکومت کے زیر کنٹرول علاقے ساحلی شہر ماریوپول کے درمیان واقع ہے۔

یوکرین کی فوج کے سربراہ وکٹر موزنکو نے صدر پوروشنکو کو بتایا کہ اس حملے کو ناکام بنا دیا گیا۔ بعض دیگر اطلاعات کے مطابق سرکاری فورسز بعد ازاں نوولاسپا سے باہر نکل گئیں۔

باغیوں کے حکام نے نوولاسپا پر حملے کی تردید کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ باغیوں کے یونٹس پہلے ہی یہاں موجود تھے اور یہ الزام عائد کیا کہ یوکرینی فورسز نے گاؤں پر گولہ باری کی۔

صدر پوروشنکو نے ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں کہا کہ انھوں نے اپنے وزیر خارجہ پاولو کلمکن کو حکم دیا ہے کہ وہ مشرقی خطے میں بڑھے ہوئے تشدد پر جرمنی، فرانس اور روس کے وزرائے خارجہ کے ساتھ "فوری مشاورت" کریں۔

رواں سال فروری میں ایک جنگ بندی معاہدہ ہوا تھا جس میں فریقین کو اس کی پاسداری کا کہتے ہوئے اگلے مورچوں سے بھاری ہتھیار ہٹانے کا کہا گیا تھا۔

لیکن اس کے باوجود مشرقی یوکرین سے آئے روز لڑائی کی اطلاعات آتی رہتی ہیں۔ یہاں روسی بولنے والے علاقوں میں سرگرم باغیوں کو مبینہ طور پر روس کی حمایت حاصل ہے لیکن ماسکو ان الزامات کو مسترد کرتا ہے۔

XS
SM
MD
LG