رسائی کے لنکس

logo-print

شام: سرکاری فوج اور جنگجوؤں میں جھڑپیں، 43 ہلاک


فائل فوٹو

شام کے شمالی مغربی علاقے میں سرکاری فوج اور اس کے اتحادیوں کی اسلام پسند جنگجووں کے ساتھ جھڑپوں میں 43 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

شام میں تشدد کے اعداد و شمار اکٹھے کرنے والی برطانوی تنظیم 'سیرین آبزوریٹری فار ہیومن رائٹس' کے مطابق جھڑپیں صوبہ حما کے ان شمالی علاقوں میں ہوئی ہیں جہاں اسلام پسند باغی تنظیموں کا قبضہ ہے۔

آبزرویٹری کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں سرکاری فوج اور اس کی اتحادی ملیشیاؤں کے 22 اہلکار شامل ہیں۔

شدید لڑائی اور جھڑپوں میں 21 جہادی بھی ہلاک ہوئے ہیں جن کا تعلق شام میں القاعدہ کی سابق شاخ 'ھیئۃ التحریر الشام' اور اس کی اتحادی 'ترکستان اسلام پارٹی' سے ہے۔

عینی شاہدین کے مطابق جھڑپوں کا سلسلہ اس وقت شروع ہوا جب سرکاری فوج اور اس کے اتحادیوں نے علاقے میں واقع دو دیہات اور ایک اہم پہاڑی کی جانب پیش قدمی کی کوشش کی۔

شام کی سرکاری خبر رساں ایجنسی 'سانا' کے مطابق سرکاری فوج کے دستوں نے شمالی حما اور اس کے پڑوسی صوبے ادلب میں ان علاقوں اور سپلائی لائنز کے خلاف پوری شدت سے کارروائی کا آغاز کیا ہے جو مسلح تنظیموں کے استعمال میں ہیں۔

آبزرویٹری کے مطابق جن علاقوں میں جھڑپیں ہوئی ہیں ان پر شامی حکومت اور اس کے اتحادی روس کی فضائیہ نے گزشتہ چند روز سے اپنے فضائی حملے بھی بڑھا دیے ہیں۔

آبزرویٹری کا کہنا ہے کہ ان علاقوں میں فضائی حملوں کی وجہ سے ہزاروں افراد محفوظ مقامات پر نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔

دریں اثنا روس کی وزارتِ دفاع نے کہا ہے کہ جنگجوؤں نے ادلب سے متصل صوبے لتاکیہ میں واقع روسی فوج کے زیرِ استعمال ایک فضائی اڈے پر راکٹ حملے کیے ہیں جنہیں ناکام بنادیا گیا ہے۔

بیان کے مطابق جنگجووں نے ایئربیس پر دو مختلف حملوں کے دوران کل 36 راکٹ فائر کیے جن میں سے بیشتر کو میزائل دفاعی نظام نے کامیابی سے نشانہ بنا کر تباہ کردیا۔

وزارتِ دفاع کے مطابق حملوں میں کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG