رسائی کے لنکس

logo-print

سوویت افغان جنگ پر روسی ڈائریکٹر کی فلم نے پنڈورا باکس کھول دیا


فلم لیونگ افغانستان کا ایک منظر

افغانستان سے سویت فوجوں کے انخلا کو اس سال 30 برس ہو رہے ہیں۔ یہ نو سالہ طویل فوجی مہم جس میں سابقہ سویت یونین کے فوجی عملے کے لگ بھگ 15 ہزار ارکان ہلاک ہوئے، آج بھی روسی معاشرے میں گرما گرم بحث کا موضوع ہے۔

سوویت۔ افغانستان جنگ کے خاتمے پر روسی فلم ڈائریکٹر پاول لونگن کی 10 مئی کو ریلیز ہونے والی فلم، لیونگ افغانستان‘ اس تنازع کو مزید ہوا دے رہی ہے۔ وائس آف امریکہ نے ماسکو میں فلم کے ڈائریکٹر سے بات کی اور ان نقادوں کو بھی سنا جو فلم ساز پر روسی تاثر بگاڑنے کا الزام عائد کرتے ہیں۔

پاول لونگن ایک جنگ مخالف فلم بنانا چاہتے تھے اور سوویت ۔ افغان تنازعے کی بے حسی اور ظلم کے بارے اپنے خيالات کا اظہار کرنا چاہتے تھے۔ ایسا کرتے ہوئے انہوں نے ان زخموں اور اس گہرے اختلاف کو منكشف کیا ہے جو آج کے روسی معاشرے میں ایک ناسور کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ یہ زخم بہر طور مندمل نہ ہو سکے اور وہ ہمارے لاشعور میں موجود ہیں اور وہ وہاں مسلسل پک رہے ہیں۔

لونگن کی تازہ ترین فلم، ’لیونگ افغانستان‘ یا افغانستان سے رخصتی، میں افغان مجاہدین سے لڑنے والی سوویت فوج کی کسی لگی لپٹی کے بغیر کھری تصویر پیش کرنے پر روس میں کچھ سیاست دانوں، سابقہ فوجیوں کی تنظیموں اور سر گرم کارکنوں نے سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سوویت فوجی اہل کاروں کی لوٹ مار، شراب نوشی اور ایک دوسرے سے دنگے فساد کے مناظر وطن دشمن اور روسی تاثر کے لیے نقصان دہ ہیں۔

افغانستان میں سوویت دور کے ایک سابق جنرل نورٹ ٹیر گریگورینٹس کا کہنا تھا کہ ایسی چیزیں صرف اور صرف ہمارے نوجوانوں کی، لوگوں کی توہین کرتی ہیں جنہیں ہماری قوم سے محبت کے جذبے سے آگاہ ہونا چاہیے۔

اخبار دی پریذیٹنٹ کے ایڈیٹر سرگئی کومکوف کہتے ہیں۔ جو کچھ اس میں دکھایا گیا ہے، وہ سچ نہیں ہے۔ وہ لٹیرے، شرابی یا بری شہرت کے حامل نہیں تھے۔ وہ ایک مسلح منظم فوج تھے۔

فلم کے معترضین، لونگن کو مغربی جاسوس قرار دیتے ہیں اور فلم کے رینٹل لائسنس کی منسوخی چاہتے ہیں۔

جب کہ لونگن کہتے ہیں کہ سوویت ذہن رکھنے والے کچھ لوگوں کے لیے اپنے معاشرے کے بارے میں کوئی سچ، غداری ہے، گویا کہ یہ کسی قسم کا کوئی فوجی راز ہے جسے ہمیں اپنے نوجوانوں اور غیر ملکیوں سے لازمی طور پر چھپانا ہے۔

کچھ لوگ ممکن ہے افغانستان کی سوویت جنگ اور بیرون ملک روس کی حالیہ فوجی مہم کو برابر سمجھیں لیکن ان کے مخالفین اس سے انکار کرتے ہیں کہ کریملن کے کسی بھی قسم کوئی سامراجی عزائم ہیں۔

سرگئی کومکوف کہتے ہیں کہ روس کبھی بھی کوئی قابض یا جارح نہیں رہا ہے۔ روس ایسے کسی بھی اتحاد میں شامل نہیں ہوتا اور اپنے علاقوں میں توسیع نہیں کرتا۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنی تاریخ سے کوئی اخلاقی جائزہ نہیں لیا ہے۔ یہ جائزہ ہمیشہ ایک ہی ہوتا ہے اور وہ یہ کہ روس ہمیشہ درست ہوتا ہے۔

فلم لیونگ افغانستان کو پرائیویٹ سطح پر دیکھنے والے کچھ ناظرین نے ضمیر کے جائزے کا خیر مقدم کیا ہے۔ ماسکو میں ایک فلم بین نے کہا۔

’کسی کو بھی اس جنگ کی ضرورت نہیں تھی۔ ہم وہاں وہ کچھ حاصل نہیں کر سکتے تھے جو ہم چاہتے تھے اور یہ غالباً ابتدا سے ہی نا ممکن تھا‘۔

ایک اور فلم بین کا کہنا تھا کہ مورخین کہتے ہیں کہ ہم نے افغانستان میں دو غلطیاں کیں۔ پہلی یہ کہ ہم وہاں کیوں گئے، اور دوسری یہ کہ ہم وہاں سے واپس کیوں آئے۔

افغانستان پر نو سالہ سوویت قبضے کے دوران ہزاروں لوگ ہلاک ہوئے جسے رہنماؤں نے جرائتمندانہ کوشش قرار دیتے ہوئے سراہا ہے

تاہم فلم ساز کا خیال یہ ہے کہ اب اس پر نظر ثانی کا وقت آ گیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG