رسائی کے لنکس

حزب مخالف کی جماعتوں کا کہنا ہے کہ حکومت نے یہ بجٹ انتخابی سال کو مدنظر رکھ  کر پیش کرنے کی کوشش کی ہے جس کی وجہ سے ملک پر قرضوں کا بوجھ مزید بڑھے گا۔

پاکستان کے وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے ملک کی حزب مخالف کی جماعتوں کی اس تنقید کو مسترد کردیا ہے کہ آئندہ مالی سال کے لیے مجوزہ بجٹ انتخابی سال کو مد نظر رکھ کر مرتب کیا گیا ہے۔

مسلم لیگ (ن) کی حکومت کا یہ پانچواں اور آخری سال ہے اور آئندہ سال کے وسط میں ملک میں عام انتخاب کا انعقاد کیا جائے گا۔

ہفتہ کو اسلام آباد میں ایک نیوز کانفرنس کے دوران انہوں نےکہا کہ آئندہ مالی سال کا مجوزہ بجٹ ملک کی معیشت کے لیے سود مند ہو گا۔

اسحاق ڈار نے جمعہ کو مالی سال 2018- 2017 کے لیے بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کیا جس کا مجموعی تخمینہ چار کھرب سات سو پچہتر ارب روپے رکھا گیا ہے۔

آئندہ سال کے لیے مجوزہ بجٹ میں زیادہ توجہ ترقیاتی شعبوں کی طرف دی گئی جس میں بنیادی ڈھانچے کی تعمیر اور توانائی کے شعبے شامل ہیں۔

تاہم حزب مخالف کی جماعتوں کا کہنا ہے کہ حکومت نے یہ بجٹ انتخابی سال کو مدنظر رکھ کر پیش کرنے کی کوشش کی ہے جس کی وجہ سے ملک پر قرضوں کا بوجھ مزید بڑھے گا۔

حزب مخالف کی دوسری بڑی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ماضی میں بھی اپنے مقرر کردہ معاشی اہداف کو حاصل نہیں کر سکی۔

"ظاہر ہے کہ الیکشن کے سال کو مدنظر رکھ کر یہ بجٹ بنایا گیا ہے۔۔۔ (حکومت نے ) جو اہداف دیے وہ ان کو حاصل نہیں کر پاتے، سرمایہ کاری کے اہدف کو دیکھ لیجئے ، آپ ان کی معاشی ترقی کی شرح نمو کا ہدف دیکھ لیں اور آپ ان کے محصولات کا ہدف دیکھ لیجئے ، اتنے اہداف مقرر کیے ان میں حاصل کوئی نہیں کیا ہے۔"

تاہم وزیر خزانہ نے نیوز کانفرنس کے دوران اس تاثر کو مسترد کر دیا۔

" ایک توقع کی جارہی تھی کہ یہ الیکشن کا سال ہے اور عوام میں مقبول ہونے کے لیے بجٹ میں پرس کھول دیا جائے گا۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہم نے بجٹ میں یہ پوری کوشش کی ہے کہ اس ملک کے لیے جو چار سال میں حاصل کیے گئے معاشی فوائد حاصل کیے گئے نا صرف ہم انہیں برقرار رکھیں بلکہ ہم سب مل کر انہیں مزید بہتر کریں۔"

پاکستان پپیلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی مہرین رزاق بھٹو کہتی ہیں کہ حکومت نے بجٹ میں عام آدمی کی بہتری کے لیے مناسب اقدام نہیں کیے ہیں۔

" آئی ایم ایف سے قرضے لے کر ملک پر قرضوں کا بوجھ بڑھا دیا گیا ہے اور نا ہی یوٹیلٹی بلوں میں کوئی سہولت فراہم کی گئی ہے اور خواتین اور بچوں کے حقوق کی کوئی بات نہیں کی گئی اور عام آدمی جو خط غربت سے نیچے زندگی بسر کر رہا ہے ان کو ریلیف دینے کی کوئی بات نہیں کی گئی۔"

تاہم اسحق ڈار نے کہا کہ حکومت جتنا بھی قرضہ حاصل کر رہی ہے اسے ترقیاتی کاموں کے لیے خرچ کیا جارہا ہے۔

" حکومت نے جو ایک روپے بھی قرض لیا اسے ترقیاتی کاموں میں خرچ کیا ہے اور اس سال ہم نے ترقیاتی بجٹ کو مزید بڑھا کر تقریباً ایک کھرب روپے کر دیا ہے۔"

وزیر خزانہ نے قومی اسبملی میں اپنی بجٹ تقریر میں کہا تھا کہ حکومت نا صرف عام آدمی کا معیار زندگی بہتر کرنے کی طرف توجہ دے رہی ہے بلکہ توانائی کے جاری منصوبوں کی وجہ سے قومی گرڈ میں 10 ہزار میگاواٹ بجلی کا اضافہ ہونے جا رہا ہے جب کہ زراعت کے شعبے کی طرف بھی توجہ دی جارہی اور کساںوں کو حکومت کی طرف سے کم شرح سود پر قرضے فراہم کیے جائیں گے۔

اسحق ڈار کا کہنا تھا کہ حکومت کی اولین ترجیح ملک کی معیشت کو پائیدار بنیادوں پر استوار کرنا ہے اور ان کے بقول اس کے لیے حکومت اور حزب اختلاف کا ملک کے معاشی ترقی کے لیے ایک قومی لائحہ عمل پر متفق ہونا ضروری ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG