رسائی کے لنکس

logo-print

کوئٹہ: پابندی کے باوجود یوم علی کا جلوس نکالنے پر 750 افراد کے خلاف مقدمہ


(فائل فوٹو)

بلوچستان کی حکومت نے کرونا کے باعث اجازت نہ ہونے کے باوجود یوم علی کا جلوس نکالنے پر 750 افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔ لیکن تاحال کوئی گرفتاری عمل میں نہیں لائی جا سکی۔

ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس عبدالرزاق چیمہ کا کہنا ہے کہ جن افراد کے خلاف دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر ایف ائی ار درج کی گئی ہے اُن کو حراست میں لیا جائے گا۔

خیال رہے کہ بلوچستان پولیس کی جانب سے جمعے کی رات گئے ایک اعلامیہ جاری کیا گیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ مذہبی تنظیم شیعہ کانفرنس کے عہدے داروں کے نام بھی مقدمے میں شامل ہیں۔

لیکن عبدالرزاق چیمہ کا کہنا ہے کہ شیعہ کانفرنس کے عہدے داروں کا نام غلط فہمی کی بنیاد پر اعلامیے میں شامل ہو گیا تھا۔ پولیس کی رپورٹ میں مذکورہ تنظیم کے کسی رہنما کا نام شامل نہیں ہے۔

وائس اف امریکہ سے گفتگو کے دوران عبدالرزاق چیمہ کا کہنا تھا کہ شہر کے مرکزی علاقے میکانگی روڈ پر جلوس نکالنے والوں کی ویڈیوز کے ذریعے نشاندہی کی جا رہی ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ ایف آئی آر میں شامل افراد کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

کوئٹہ کے علاقے ہزارہ ٹاﺅن میں یوم علی کے موقع پر جلوس نکالنے پر درج کیے گئے مقدمے میں عاشق حسین، اصغر، علی جان، امتیاز، سجاد، کاظم، امان، سید عباس، بھیا، فیض محمد اور سکندر سمیت 750 نامعلوم افراد کے نام شامل ہیں۔

بعض افراد نے امام بارگاہ ہزارہ ٹاﺅن اور امام بارگاہ ولی عصر سے بغیر اجازت جلوس نکالا تھا جس پر پولیس حکام نے اُن کے خلاف دفعہ 144 کی خلاف ورزی کرنے پر ایف ائی ار درج کر لی ہے۔

بلوچستان شیعہ کانفرنس کے رہنما آغا داﺅد نے وائس اف امر یکہ سے گفتگو کے دوران کہا کہ شیعہ کانفرنس نے اس سال کرونا کے پھیلاﺅ کے خطرات کے پیش نظر مقامی انتظامیہ کی درخواست پر جلو س نہ نکالنے کا فیصلہ کیا تھا۔

لیکن پولیس حکام نے بلاوجہ اس میں شیعہ کانفرنس کو ملوث کیا ہے۔ اُن کے بقول ہماری تنظیم کا جلوس سے کوئی تعلق نہیں۔

شیعہ کانفرنس کے رہنما نے ایف ائی آر کی مذمت کرتے ہوئے اسے فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ بھی کیا۔

اُنہوں نے کہا کہ یوم علی کے موقع پر جلوس امام بارگاہوں سے نہیں نکلے۔ بلکہ یہ گلی کوچوں سے عام لوگوں نے جلوس نکالے، لہذٰا ان کا شیعہ تنظیموں سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

ماہر قانون اور انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان کے رہنما طاہر حسین ایڈوکیٹ نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ جلوس نکالنے والوں پر آٹھ مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ قانون کے تحت ان افراد کو جرمانہ اور زیادہ سے زیادہ تین سال قید کی سزا دی جا سکتی ہے۔

خیال رہے کہ کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے حکومتِ پاکستان نے مذہبی اجتماعات اور جلوس نکالنے پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔

البتہ یوم علی پر مجالس میں سماجی فاصلے برقرار رکھتے ہوئے، محدود اجتماعات کی اجازت دی گئی تھی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG