رسائی کے لنکس

logo-print

کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر پاکستانی اور بھارتی فورسز میں فائرنگ کا تبادلہ


کشمیر کو دو حصوں میں منقسم کرنے والی حد بندی لائن پر ایک بار پھر بھارتی اور پاکستانی فورسز کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا ہے۔

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق لائن آف کنٹرول کی دوسری جانب سے چھمب سیکٹر بھمبر میں فائرنگ کا سلسلہ ہفتہ کو علی الصبح چار بجے شروع ہوا جو صبح آٹھ بجے تک جاری رہا۔

بیان کے مطابق اس دوران پاکستانی فوج کی طرف سے بھی فائرنگ کا جواب دیا گیا لیکن اس تازہ تبادلے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

بھارت کی جانب سے اس بارے میں کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔

دو روز قبل ہی بھارتی فوج کی طرف سے کی گئی فائرنگ میں دو پاکستانی فوجی مارے گئے تھے۔

بھارت نے اسی روز لائن آف کنٹرول کے ساتھ مشتبہ دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر سرجیکل اسٹرائیکس کا دعویٰ کیا تھا جسے پاکستان نے فوری طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ بھارتی فورسز نے "بلااشتعال" فائرنگ کی۔

دریں اثناء پاکستانی فوج کے ترجمان لفٹیننٹ جنرل عاصم باجوہ نے لائن آف کنٹرول کے باغ سر نامی علاقے میں صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ جنگ کسی بھی ملک کے مفاد میں نہیں البتہ اُن کے بقول پاکستانی افواج ملکی دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔

لفٹیننٹ جنرل عاصم باجوہ نے کہا کہ جمعرات کو پاکستانی فورسز نے جو جوابی کارروائی کی اُس میں بھارتی فورس کا بھی نقصان ہوا۔

’’ہم نے جوابی فائر کیا، ہمیں یقین ہے کہ اُن کا بھی جانی نقصان ہوا ہے لیکن (بھارت) کیوں اس کو تسلیم نہیں کر رہا ہے یہ اُن سے پوچھنے کا سوال ہے۔‘‘

شائع شدہ اطلاعات کے مطابق جمعرات کو ہونے والے فائرنگ کے تبادلے میں کچھ بھارتی فوجی زخمی یا ہلاک بھی ہوئے لیکن بھارت کی طرف ایسی اطلاعات کی تصدیق نہیں کی گئی۔

اسی اثنا میں بھارتی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ کی طرف سے یہ بیان سامنے آیا کہ لائن آف کنٹرول سے پاکستانی فوج نے جس بھارتی فوجی کو تحویل میں لیا تھا اس کی رہائی کے لیے تمام تر کوششیں کی جا رہی ہیں۔

تاہم انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ اس فوجی کو کب حراست میں لیا گیا تھا اور نہ پاکستان کی طرف سے باضابطہ طور پر اس بارے میں کوئی تصدیق کی گئی تھی۔

بھارت اور پاکستان کے درمیان تعلقات حالیہ دنوں میں انتہائی کشیدہ ہو چکے ہیں جس میں کمی کے لیے امریکہ سمیت روس اور ایران بھی دونوں ملکوں کو تحمل کا مظاہرہ کرنے کو کہہ چکے ہیں۔

XS
SM
MD
LG