رسائی کے لنکس

logo-print

ملائشین طیارے کو لاپتا ہوئے ایک سال بیت گیا


جہاز کا کھوج لگانے میں درجنوں ملکوں کے ماہرین سر توڑ کوشش کرتے رہے لیکن یہ آج بھی ایک معمہ ہی ہے۔

گزشتہ سال آٹھ مارچ کو ملائیشین ایئرلائنز کا ایک طیارہ کوالالمپور سے بیجنگ جانے کے اڑان بھرنے کے چالیس منٹ بعد لاپتا ہو گیا تھا جس کا آج تک سراغ نہیں لگایا جا سکا ہے۔

اس واقعے کو ایک سال مکمل ہو رہا ہے اور باور یہی کیا جاتا ہے کہ جہاز سمندر میں کہیں گر کر تباہ ہو گیا۔ لیکن درحقیقت اس طیارے کے ساتھ کیا ماجرا ہوا یہ سوال ابھی تک جواب طلب ہے اور نہ ہی اس بارے میں کوئی حکمت عملی واضح طور پر سامنے آ سکی ہے کہ آیا مستقبل میں ایسے کسی حادثے کی صورت میں کیا یہی پراسراریت برقرار رہے گی۔

"شب بخیر۔۔۔ملائیشین 370"، یہ 239 افراد کو لے جانے والے مسافر طیارے سے آخری الفاظ تھے جو جہاز کے راڈار سے غائب ہونے سے قبل سنائی دیے۔

امریکہ میں کمرشل ہوابازی سے وابستہ پائلٹ این جیبو کہتے ہیں کہ کھلے سمندر پر پرواز کے دوران 30 سے 60 منٹ تک جہاز اور زمین پر کنٹرولر سے رابطہ برقرار رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

"ہمیں دراصل ریئل ٹائم ڈیٹا درکار ہے جس سے یہ معلوم ہو سکے کہ یہ واقعہ کب پیش آیا۔"

دی انٹرنیشنل سول ایوی ایشن آرگنائزیشن، جو کہ ہوا بازی کی صنعت کے لیے عالمی سطح پر معیار متعین کرتی ہے، نے یہ سفارش کر رکھی ہے کہ طیاروں کو اپنی پوزیشن کے بارے میں ہر 15 منٹ بعد اور کسی ہنگامی صورتحال میں ہر منٹ میں مطلع رکھنا ہے۔

لاپتا ہونے والے جہاز کی تلاش کے لیے پہلے طیارے کے مقررہ روٹ پر سرگرمیاں شروع کی گئیں لیکن بعد میں تلاش کا دائرہ وسیع ہونے کے ساتھ ساتھ تبدیل بھی ہوتا رہا۔

جہاز کی تلاش کے لیے سمندر میں زیر آب بھی تلاش کی سرگرمیاں کئی روز تک جاری رہیں لیکن طیارے کے ڈیٹا ریکارڈ کی بیٹری صرف 30 روز تک ہی کارآمد ہوتی ہے لہذا یہاں بھی اس کا کوئی سراغ نہ مل سکا۔

جہاز کا کھوج لگانے میں درجنوں ملکوں کے ماہرین سر توڑ کوشش کرتے رہے لیکن یہ آج بھی ایک معمہ ہی ہے۔

ایم ایچ 370 جہاز کی تلاش پر نو کروڑ ڈالرز سے زائد صرف ہوئے جو کہ ہوا بازی کی تاریخ میں کھوج کی سب سے مہنگی سرگرمی ثابت ہوئی ہے۔

ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ جہازوں کا لاپتا ہونا بہت ہی مشکل ہے لیکن ایسا ہو ضرور سکتا ہے۔

XS
SM
MD
LG