رسائی کے لنکس

logo-print

’’چیف صاحب! یہ کام آپ کے کرنے کا نہیں، آپ ان سے دور رہیں‘‘


عاصمہ جہانگیر۔ فائل فوٹو

عاصمہ جہانگیر کی وفات کو ایک سال پورا ہونے پر ساؤتھ ایشین فری میڈیا ایسوسی ایشن کے سیکرٹری جنرل امتیاز عالم کے ساتھ گفتگو ہو رہی تھی۔ میں نے کہا کہ امتیاز عالم صاحب اب تو ٹوئیٹ کرتے ہوئے بھی ڈر لگتا ہے۔ بولے وہ کیوں بھئی۔ میں نے جواب دیا امتیاز صاحب اب عاصمہ جہانگیر تو رہی نہیں کہ ہم جیسے نوجوان صحافیوں کی ہمت بندھائیں اور مشکل وقت میں ساتھ کھڑی ہوں۔ امتیاز عالم نے جواب دیا کہ عاصمہ جہانگیر کا خلاء تو پورا نہیں کیا جا سکتا، لیکن اب وہ ہر جگہ موجود ہے۔ عدالت نے فیض آباد دھرنے پر فیصلہ دے دیا ہے۔ تمام آئینی اداروں کو اپنی قانونی حد میں رہنا چاہیے تا کہ لوگوں کا ردِعمل نہ آئے۔

امتیاز عالم نے مزید کہا کہ عاصمہ صرف آئین اور قانون کی عملداری چاہتی تھیں اور تم بھی ٹوئیٹ کرتے وقت ایک بات ذہن میں رکھنا کہ ریاستی اداروں کے ساتھ کوئی لڑائی نہیں ہے۔

’’ملک کے ہر شہر میں لوگ عاصمہ کے راستے پر چل پڑے ہیں۔ اب ہر جگہ ماورائے عدالت قتل، ماورائے عدالت اِغوا، آزادی اظہار پر پابندی اور صحافیوں کو جبری نکالے جانے پر بات ہو رہی ہے تو یہ اُسی کا لگایا ہوا بیج ہے جس کا پودا ہر جگہ اُگ رہا ہے۔‘‘

پاکستان میں انسانی حقوق کے لیے سرگرم غیر سرکاری تنظیم ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے رکن آئی اے رحمان کہتے ہیں کہ انسانی حقوق کے معنی کیا ہیں، یہ کیسے حاصل کیا جا سکتا ہے، اِس کی وسعت کیا ہے، یہ سب باتیں لوگوں نے عاصمہ جہانگیر سے سیکھیں۔ وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے آئی اے رحمان کہتے ہیں کہ عاصمہ نے اپنا کام عورتوں کی وکالت سے شروع کیا جو جلد عورتوں کی نمائندگی میں بدل گیا۔ آئی اے رحمان نے بتایا کہ انہوں نے عاصمہ کے ساتھ بہت سال کام کیا اور صرف ایک بات سیکھی کہ وہ حق کے لیے کھڑی ہو جایا کرتی تھیں، کسی کے رعب میں نہیں آتی تھیں۔

’’اُنہوں نے کبھی مارشل لاء کو قبول نہیں کیا۔ جمہوری اقدار کی ہمیشہ پاسداری کی۔ بڑے سے بڑے حاکم کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہہ دیتی تھی کہ آپ یہ ظلم نہیں کر سکتے، ہم آپ کو یہ ظلم نہیں کرنے دینگے۔ اُن کی آواز میں اتنی طاقت تھی کہ وہ عدالت عظمٰی میں کہہ دیتی تھیں کہ یہ کام آپ کے کرنے کا نہیں، یہ سیاسی معاملات ہیں ۔آپ اِن سے دور رہیں۔‘‘

عاصمہ جہانگیر کی بیٹی منیزِے جہانگیر کہتی ہیں کہ بطور ماں تو وہ انہیں ساری زندگی یاد کرتی رہینگی اور یہ کمی کبھی پوری نہیں ہو سکتی۔ لیکن گزشتہ ایک سال میں اُنہوں نے عاصمہ جہانگیر کی کمی کو ایک بہادر خاتون کی حیثیت سے بہت شدت سے محسوس کیا ہے۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے منیزے جہانگیر نے کہا کہ بطور صحافی وہ اپنی ماں جیسی آوازوں کو ڈھونڈتی ہیں جنہوں نے ہمیشہ انسانی حقوق، اقلیتوں کے حقوق، جمہوریت، توہین مذہب کے مسئلے اور خواتین کے حقوق کی اُس وقت بات کی جب غیرت کے نام پر اُنہیں مارنا اعزاز سمجھا جاتا تھا۔ اُنکی والدہ نے وکلاء کا ساتھ ہر پلیٹ فارم پر دیا، عدلیہ بحالی تحریک میں بھی وہ پیش پیش تھیں۔ منیزے جہانگیر کہتی ہیں کہ اُنکی ماں ہمیشہ امن کی بات کرتی تھیں اور خاص طور پر اُس وقت امن کی بات کرتی تھیں جب پاکستان اور بھارت کی فوجیں لڑائی کے لیے تیار ہوتی تھیں۔

’’میری ماں اقلیتوں کو حقوق دینے کی بات کرتی تھیں، اُنکا ساتھ دیتی تھیں، اُنکے لیے لڑتی تھیں جِس کے بدلے اُنہیں دھمکیاں ملتی تھیں لیکن نہ وہ کبھی ڈریں اور نہ ہی پیچھے ہٹیں”۔

منیزے جہانگیر کا شکریہ ادا کر کے ابھی مڑا ہی تھا کہ انہوں نے کہا ایک بات اور اگر آج اُنکی ماں زندہ ہوتیں تو آج آزادیء رائے اور آزادی اظہار پر جو قدغنیں لگ رہی ہیں اِس پر وہ ضرور آواز اُٹھاتیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG