رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ کی پہلی مسلمان خاتون جج کی لاش دریائے ہڈسن سے برآمد


شیلا عبدالسلام (فائل فوٹو)

شیلا عبدالسلام 1991ء میں نیویارک سٹی کی جج بننے کے بعد مختلف عدالتی عہدوں پر فائز رہیں۔

امریکہ میں پولیس کے عہدیداروں نے بدھ کو کہا کہ ملک کی پہلی مسلمان خاتون جج نیویارک کے دریائے ہڈسن میں مردہ حالت میں پائی گئی ہیں۔

پولیس کے ایک ترجمان کے مطابق نیویارک کی اعلیٰ عدالت کی جج 65 سالہ شیلا عبدالسلام کی لاش بدھ کو مینہیٹن کے مغربی حصے کے قریب دریا میں تیرتی ہوئی ملی۔

خبررساں ادارے روئیڑز نے پولیس کے ترجمان کے حوالے سے بتایا ہے کہ پولیس نے پورے لباس میں ملبوس شیلا کو جب دریا سے نکالا تو اس وقت ان کی موت واقع ہو چکی تھی۔

واشنگٹن سے تعلق رکھنے والی شیلا عبدالسلام کو 2013ء میں نیویارک کی ریاست کی اعلیٰ عدالت کا جج مقرر کیا گیا تھا اور وہ عہدے پر تعینات ہونے والی پہلی افریقی امریکی خاتون جج تھیں۔

نیویارک پوسٹ نے شناخت ظاہر کیے بغیر ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ شیلا عبدالسلام بدھ کی صبح سے لاپتا ہو گئی تھیں۔

کورٹ آف اپیل کی ویب سائیٹ کے مطابق شیلا برنرڈ کالج اور کولمبیا لا اسکول سے فارغ التحصل تھیں اور انہوں نے اپنی پیشہ وارنہ زندگی کا آغاز ایسٹ برکلن لیگل سروس سے کیا اور انہوں نے نیویارک کی ریاست کی نائب اٹارنی جنرل کے طور پر بھی کام کیا۔

وہ 1991ء میں نیویارک سٹی کی جج بننے کے بعد مختلف عدالتی عہدوں پر فائز رہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG