رسائی کے لنکس

logo-print

آکسفورڈ یونیورسٹی کی تاریخ کی پہلی خاتون وائس چانسلر نامزد


ریکارڈز بتاتے ہیں کہ یہاں پہلے وائس چانسلر کو 1230 میں منتخب کیا گیا تھا ۔ جبکہ اس تقرری کے بعد لوئیس پہلی خاتون وائس چانسلر ہوں گی

آکسفورڈ یونیورسٹی کی لگ بھگ آٹھ سو سالہ تاریخ میں پہلی بار وائس چانسلر کے عہدے پر ایک خاتون کو نامزد کیا گیا ہے۔ لوئیس رچرڈسن کا انتخاب یونیورسٹی کی 272 ویں وائس چانسلر کی حیثیت سے کیا گیا۔

لوئیس 'سنیٹ اینڈریو یونیورسٹی' کی موجودہ پرنسپل ہیں اس سے پہلے وہ ہارورڈ یونیورسٹی میں پروفیسر رہ چکی ہیں۔

انھیں آکسفورڈ یونیورسٹی کی قیادت کی نامزدگی کی کمیٹی کی طرف سے سات سال کی مدت کے لیے ادارے کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے، تاہم لوئیس قانون ساز ادارے کی منظوری کےبعد اگلے سال کے شروع میں اپنا عہدہ سنبھال لیں گی۔

انسائیکلو پیڈیا آکسفورڈ کے مطابق یونیورسٹی کے قیام کی معروف تاریخ نامعلوم ہے البتہ یہاں 1096 سے درس وتدریس کے شواہد ملے ہیں جس سے پتہ چلتا ہے کہ یہ انگریزی بولنے والی دنیا کی سب سے قدیم یونیورسٹیوں میں سے ایک ہے

علاوہ ازیں ابتدائی ریکارڈز بتاتے ہیں کہ یہاں پہلے وائس چانسلر کو 1230 میں منتخب کیا گیا تھا جبکہ اس تقرری کے بعد لوئیس پہلی خاتون وائس چانسلر ہوں گی۔

اس کے ساتھ ساتھ پروفیسر لوئیس کو سینٹ اینڈریو یونیورسٹی کی پہلی خاتون پرنسپل ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔

آئر لینڈ سے تعلق رکھنے والی لوئیس رچرڈ سن نے ہارورڈ یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ہے اور یونیورسٹی آف کیلی فورنیا لاس انجلس سے سیاسیات میں ایم اے کیا ہے۔

انھوں نے دہشت گردی کے خلاف تحقیق کی ہے اور 2006 میں ایک کتاب تحریر کی جس کا نام 'واٹ ٹیررسٹ وانٹ' ہے۔

گارڈین اخبار سے انھوں نےایک انٹرویو میں کہا کہ آکسفورڈ دنیا کی بہترین جامعات میں سے ایک ہے اور ادارے کی قیادت کا موقع دیا جانا ان کے لیے اہم اعزاز ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ' وہ ایک ایسا دن دیکھنے کی تمنا رکھتی ہیں جب ایک خاتون کی تقرری اپنے آپ میں ایک خبر نہیں ہو گی'۔

"میرے والدین کالج نہیں گئے میرے زیادہ تر بہن بھائیوں نے کالج سے تعلیم حاصل نہیں کی ہے اور میری زندگی کی یہ رفتار تعلیم کے بغیر ممکن نہیں تھی لہذا میں دوسروں کو ایسے مواقع فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہوں جو زندگی میں مجھے حاصل ہوئے۔"

آکسفورڈ یونیورسٹی میں خواتین کی شمولیت کی تاریخ

آکسفورڈ یونیورسٹی میں 38 اتحادی کالج اور تعلیمی محکمے شامل ہیں جو یونیورسٹی کا حصہ ہونے کے باوجود اپنے اندرونی ڈھانچے اور سرگرمیوں پر کنڑول رکھتے ہیں۔ یہاں یونیورسٹی کا کوئی مرکزی کیمپس نہیں ہے بلکہ تمام کالج کی عمارتیں اور سہولیات آکسفورڈ شہر میں بکھری ہوئی ہیں۔

خواتین کی اعلیٰ تعلیم کے فروغ کے لیے آکسفورڈ یونیورسٹی میں 1879 میں لڑکیوں کے کالج لیڈی مارگریٹ ہال اور سمروول کالج کا قیام عمل میں لایا گیا جس کے بعد سینٹ ہیوز کالج 1886 میں اور سینٹ ہلڈس کالج 1893 میں اور 1952 میں سینیٹ این کالج قائم کیا گیا۔

اسی طرح پانچ مکمل لڑکوں کے کالجوں میں 1974 میں پہلی بار لڑکیوں کو داخلہ دیا گیا۔ علاوہ ازیں 2008 کے بعد سے آکسفورڈ کے تمام کالجوں میں لڑکوں اور لڑکیوں کو ایک ساتھ تعلیم دی جارہی ہے۔

آکسفورڈ یونیورسٹی میں مکمل پروفیسر مقرر کی جانے والی پہلی خاتون ایگنیس ہیڈلیم مورلی ہیں۔ جنھیں مانیٹکی برٹن میں 1948ء بین الاقوامی تعلقات کا پروفیسر مقرر کیا گیا تھا۔

اسی طرح 1993 میں ایگزیٹر یونیورسٹی کی پرنسپل پروفیسر مارلن بٹلر کو پہلی بار لڑکوں کے کالج کی خاتون پرنسپل مقرر کیا گیا۔

اس وقت برطانیہ میں رسل گروپ کی یونیورسٹیوں میں سے تین یونیورسٹیوں میں خواتین کو اعلیٰ قیادت سونپی کی گئی ہے جن میں مانچسٹر یونیورسٹی میں نینسی ارتھ ویل اور لیورپول یونیورسٹی کی پرنسپل جینیٹ بئیر اور امپیریل کالج لندن کی پروفیسر ایلس پی شامل ہیں۔

XS
SM
MD
LG