رسائی کے لنکس

ایران کے راستے بھارتی گندم کی پہلی کھیپ افغانستان پہنچ گئی


فائل فوٹو

بھارت کی طرف سے ایران کے راستے بھیجی جانے والی گندم کی پہلی کھیپ ہفتہ کو افغانستان پہنچی جس سے ان تینوں ملکوں کے درمیان یہ نئی تجارتی راہداری باقاعدہ طور پر موثر ہو گئی ہے۔

حکام کے مطابق یہ راہداری کابل اور نئی دہلی کے مابین تجارتی روابط بڑھانے کے لیے مددگار ثابت ہوگی۔

بھارت کی طرف سے تقریباً 15 ہزار ٹن گندم مغربی بندرگاہ کانڈلا سے 29 اکتوبر کو روانہ کی گئی تھی جو دو دن کی بحری مسافت کے بعد ایران کی بندرگاہ چابہار پہنچی تھی۔ وہاں سے اس کھیپ کو ٹرکوں کے ذریعے ملحقہ افغان صوبے نمروز پہنچایا گیا۔

نمروز کے شہر زرنج میں اس سلسلے میں منعقدہ خصوصی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کابل میں نئی دہلی کے سفیر من پریت ووہرا کا کہنا تھا کہ اس کھیپ کا پہنچنا نئی راہداری کے قابل عمل ہونے کا مظہر ہے۔

ان کے بقول دوسری کھیپ چابہار پہنچ چکی ہے اور آئندہ سال فروری تک کل ایک لاکھ دس ہزار ٹن گندم اسی راستے سے افغانستان پہنچا دی جائے گی۔

بھارت نے چابہار کی بندرگاہ کی تعمیر و توسیع کے منصوبے پر پچاس کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کر رکھی ہے اور توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ اس نئی تجارتی راہداری سے بھارت کو وسطی ایشیا تک بھی آسان رسائی مل جائے گی۔

بھارت کے روایتی حریف اور پڑوسی ملک پاکستان نے زمینی راستے سے براہ راست افغانستان کے لیے تجارت کی اجازت نہیں دی جو کہ افغانستان اور پھر وسطی ایشیا تک اس کے لیے نسبتاً سستا اور آسان راستہ ہے۔

ان دونوں ہمسایہ ایٹمی قوتوں کے تعلقات شروع ہی سے اتار چڑھاؤ کا شکار رہے ہیں جن میں تناؤ کا عنصر غالب رہا۔ افغانستان کے بھی پاکستان کے ساتھ تعلقات حالیہ مہینوں میں مثالی نہیں رہے۔

پاکستان اپنے مغربی ہمسائے افغانستان کو تجارت کے لیے کراچی کی بندرگاہ کی سہولت فراہم کر رہا ہے لیکن وہ سلامتی سے متعلق تحفظات کی بنا پر زمینی راستے سے بھارت کے ساتھ براہ راست تجارت کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔

افغانستان یہ کہہ چکا ہے کہ اگر پاکستان اس کے ٹرکوں کے لیے یہ اجازت نہیں دے گا تو وہ بھی پاکستان کو اپنے ملک سے براہ راست وسطی ایشیا تک مال لانے اور لے جانے کے لیے اجازت نہیں دے گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG