رسائی کے لنکس

پاکستان افغانستان کی تجارتی منڈی کھو سکتا ہے، تاجروں کا انتباہ


بھارت، ایران اور افغانستان نے سہ فریقی اقتصادی معاہدہ کیا تھا۔

پاکستان اور افغانستان کے مشترکہ چیمبر ہائے صنعت و تجارت کے بانی چیئرمین زبیر موتی والا نے متنبہ کیا ہے کہ اگر افغانستان کے لیے پاکستانی برآمدات کی کمی پر توجہ نہ دی گئی اور اس دوران بھارت وہاں اپنے قدم جمانے میں کامیاب ہو گیا تو یہ صورتحال دو طرفہ تجارت کے لیے ناقابلِ تلافی نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔

بھارت نے افغانستان میں سامانِ تجارت اور اشیا کی ترسیل کے لیے فضائی راستے کے بعد اب باقاعدہ طور پر سمندری راستہ بھی استوار کر لیا ہے اور اتوار کو اس نے خوراک کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے وعدہ کی گئی گندم کی پہلی کھیپ افغانستان روانہ کی۔

یہ کھیپ بھارتی بندرگاہ کانڈلا سے سمندر کے راستے ایران کی بندرگاہ چابہار بھیجی گئی ہے جہاں سے اسے ٹرکوں کے ذریعے افغانستان منتقل کیا جائے گا۔

افغانستان پہلے ہی متنبہ کر چکا ہے کہ اگر پاکستان نے زمینی راستے سے واہگہ کے ذریعے بھارت سے اس کے ٹرکوں کو سامان لانے کی اجازت نہ دی تو وہ بھی پاکستانی ٹرکوں کو وسطی ایشیا تک رسائی نہیں دے گا۔

اس ساری صورتِ حال کو زبیر موتی والا پاکستانی تجارت کے لیے خطرناک تصور کرتے ہیں۔

پیر کو وائس آف امریکہ سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کے لیے پاکستان کا تجارتی حجم 2.7 ارب ڈالر سے کم ہو کر 1.5 ارب تک پہنچ گیا ہے جب کہ ملک کی مجموعی برآمدات میں پہلے ہی کمی واقع ہو چکی ہے۔ لہذا ان کے بقول حکومت کو سنجیدگی سے اس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

زبیر موتی والا (فائل فوٹو)
زبیر موتی والا (فائل فوٹو)

"افغانستان تاریخی طور پر پاکستان کی منڈی رہا ہے۔۔۔ افغانستان ایک بڑی منڈی ہے ہمارے لیے۔ (مجموعی) برآمدات جہاں آپ کی 25 ارب ڈالر ہوں وہاں ڈھائی پونے تین ارب کی بڑی اہمیت ہوتی ہے۔ تو آپ اگر اپنی 12 سے 15 فی صد برآمدات کو نیچے جانے دے رہے ہیں تو حکومت کو سنجیدگی سے دیکھنا ہو گا کہ مسئلہ کیا ہے۔"

بھارت سے زمینی راستے سے افغانستان بھیجا جانے والا سامان واہگہ کی سرحد پر ٹرکوں سے اتار کر پاکستانی ٹرکوں کے ذریعے افغانستان کی سرحد تک منتقل کیا جاتا رہا ہے۔

پاکستانی حکام اس عمل کو بھارت کے ساتھ اپنے تعلقات کی نوعیت اور سلامتی کے خدشات کے پیشِ نظر ضروری قرار دیتے ہیں۔

پارلیمانی سیکرٹری برائے امور خزانہ و اقتصادی امور رانا محمد افضل خان نے حال ہی میں وائس آف امریکہ کو بتایا تھا کہ پاکستان، افغانستان کو بھارت سے تجارت کے لیے براہِ راست زمینی راستہ فراہم نہیں کر سکتا جس کی وجہ سلامتی کے خدشات ہیں اور ان کے بقول پاکستان کے لیے اپنی سلامتی مقدم ہے۔

واہگہ کی سرحدی گزر گاہ پر تعینات سکیورٹی اہلکار (فائل فوٹو)
واہگہ کی سرحدی گزر گاہ پر تعینات سکیورٹی اہلکار (فائل فوٹو)

گزشتہ سال جون میں بھارت نے افغانستان کے لیے فضائی راستے سے سامان کی ترسیل کا آغاز کیا تھا اور زبیر موتی والا کے بقول بھارتی حکومت افغانستان کے لیے اپنے برآمد کنندگان کو زرِاعانت بھی فراہم کر رہی ہے۔

سلامتی کے خدشات کی وجہ سے بھارت اور افغانستان کے مابین براہِ راست زمینی تجارتی راہداری نہ دینے پر زبیر موتی والا کا کہنا تھا کہ سلامتی کے لیے بہتر انتظامات کر کے اس مسئلے کو حل کیا جا سکتا ہے اور حکومت کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اگر کاروبار کو سیاست کے تناظر میں دیکھا جائے گا تو اس کے کیا مضمرات ہو سکتے ہیں۔

"اگر سلامتی کے اقدام ہیں، دہشت گردی ہے، تو اس کو مدِنظر رکھتے ہوئے سکیورٹی کے کوئی بہتر انتظامات کریں۔ اپنی برآمدات کو اپنی اتنی بڑی منڈی کو کھونا نہیں چاہیے۔ کیونکہ بھارت زرِاعانت دے رہا ہے اور ہم شاید ان (افغانستان) کے سامنے مال نہ بیچ سکیں۔ لیکن لاجسٹک کے حوالے سے جو مسئلے ہیں وہ تو ہم حل کر سکتے ہیں۔ اگر ایک دفعہ ہم مارکیٹ کھو دیتے ہیں اور اس کی جگہ بھارت آ جاتا ہے تو پھر (منڈی کو) واپس لانا مشکل ہوتا ہے۔"

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو اس مسئلے کو سمجھنا ہوگا اور اس کے لیے کسی حل کے ساتھ پیش رفت کرنا ہوگی۔

پارلیمانی سیکرٹری رانا افضل کا کہنا تھا کہ افغانستان کے صدر اشرف غنی جب پاکستان کے دورے پر آئیں گے اور اگر راہدای کے امور پر بات چیت کا سلسلہ شروع ہوا تو پاکستان ضرور اس پر بات کرے گا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اگست میں افغانستان اور جنوبی ایشیا کے لیے اپنی نئی پالیسی کے اعلان کے وقت بھارت سے کہا تھا کہ وہ افغانستان کی ترقی کے لیے اپنے کردار کو مزید بڑھائے۔

بھارت، افغانستان میں خطیر سرمایہ کاری اور تعاون فراہم کر رہا ہے اور اس نے ایران کی بندرگاہ چابہار کی ترقی کے لیے بھی حالیہ برسوں میں معاونت کی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG