رسائی کے لنکس

logo-print

’ایچ آئی وی‘ وائرس سے متاثرہ افراد کی تصاویر کی منفرد نمائش


ان تصویروں میں پاکستان میں ’ایچ آئی وی‘ سے متاثرہ اُن 25 افراد کی ہمت و حوصلے کی کہانیاں بیان کی گئی ہیں جو وائرس سے متاثر ہونے کے باوجود ایک بھرپور زندگی گزارنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ثقافتی مرکز لوک ورثہ میں تصویروں کی ایک منفرد نمائش جاری ہے، جس میں پہلی مرتبہ ایڈز اور ’ایچ آئی وی‘ وائرس سے متاثرہ افراد کی تصاویر آویزاں کی گئی ہیں۔

ان تصویروں میں پاکستان میں ’ایچ آئی وی‘ سے متاثرہ اُن 25 افراد کی ہمت و حوصلے کی کہانیاں بیان کی گئی ہیں جو وائرس سے متاثر ہونے کے باوجود ایک بھرپور زندگی گزارنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔

اس نمائش کا انعقاد پاکستان میں نیشنل ایڈز کنٹرول پروگرام، اقوام متحدہ کے انفارمیشن سینٹر اور ایچ آئی وائرس و ایڈز کے خلاف کام کرنے والے اقوم متحدہ کے پروگرام ’یواین ایڈز‘ نے مشترکہ طور پر کیا۔

اس نمائش کا مقصد ’ایچ آئی وی‘سے جڑے معاشرتی تعصبات اور امتیاز کو ختم کرنا ہے۔

نمائش میں رکھی گئی ہر تصویر کے ساتھ اس شخص کی ایک مختصر کہانی بھی بیان کی گئی ہے جس میں ان کو درپیش چیلنچوں اور تحفظات کا اظہار ہے، مگر ساتھ ہی تبدیلی لانے اور امتیاز ختم کرنے کا عزم بھی شامل ہے۔

نیشنل ایڈز کنٹرول پروگرام سے وابستہ تاج ولی خٹک نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ اس نمائش کا مقصد ’ایچ آئی وی‘ سے متاثرہ افراد کے بارے میں آگاہی پیدا کرنا ہے۔

" یہ مسئلہ ایک سرنج کے بار بار استعمال اور باہر سے آنے والے کارکنوں کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے تو یہ ایک مسئلہ ہے اس کو حل کرنے کی ضروررت ہے۔ اس طرح کی مہم آگاہی کے لیے ضروری ہے تاکہ سرکاری اور عوامی حلقوں میں اس بیماری کی روک تھام اور علاج کے لیے کام ہو"۔

ایڈز کا سبب بننے والے وائرس ’ایچ آئی وی‘ سے متعلق عام طور پر کافی منفی تاثر پایا جاتا ہے اور زیادہ تر یہ ہی سمجھا جاتا ہے کہ اس وائرس کا سبب غیر ازدواجی جنسی روابط ہی ہیں۔

واضح رہے کہ2010 میں کی گئی ایک تحقیق سے معلوم ہوا تھا کہ پاکستان میں عموماً ’ایچ آئی وی‘ یا ’ایڈز‘ سے متاثر افراد سے لوگ ملنا جلنا ترک کر دیتے ہیں اور انہیں مذہبی سرگرمیوں میں شریک ہونے سے بھی روکا جاتا ہے جبکہ ملازمتوں کے سلسلے میں بھی ان سے امتیاز برتا جاتا ہے۔

اس مرض کے بارے میں عام لوگوں میں آگہی کا بھی شدید فقدان ہے۔

ایک محتاط اندازنے کے مطابق پاکستان میں گزشتہ سال تک ’ایچ آئی وی‘ سے متاثرہ افراد کی تعداد 94 ہزار تھی۔

تاہم نیشنل ایڈز کنٹرول پروگرام کے عہدیداروں کے مطابق ’ایچ آئی وی‘ سے متاثرہ صرف 10 ہزار افراد کے بارے میں سرکاری سطح پر معلومات موجود ہیں جب کہ لگ بھگ 80 ہزار ایسے افراد ہیں، جو ممکنہ طور پر ایچ آئی وی ایڈز کا شکار ہونے کے باوجود اپنی بیماری سے متعلق لاعلم ہیں۔

پاکستان میں ایچ آئی وی اور ایڈز سے متاثر ہونے والوں میں زیادہ تعداد ایک ہی سرنج کے بار بار استعمال کرنے والوں کی ہے۔

ایڈز ایک جان لیوا بیماری ہے جس کا وائرس عمومی طور پر غیر فطری جنسی روابط، غیر محفوظ انتقال خون اور استعمال شدہ سرنج کے دوبارہ استعمال سے انسانی جسم میں منتقل ہوتا ہے۔

XS
SM
MD
LG