رسائی کے لنکس

logo-print

'افغان سرحد پار سے دہشت گرد حملے'، پاکستانی سیکورٹی اہلکار زخمی


فائل فوٹو

پاکستانی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ سرحد پار افغانستان سے عسکریت پسندوں نے پاکستانی سرحدی چوکیوں پر فائرنگ کی ہے جس کی وجہ سے اس کے پانچ سیکورٹی اہلکار زخمی ہوئے۔

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ 'آئی ایس پی' کی طرف سے اتوار کو جاری ہونے والے بیان کے مطابق ان حملوں میں صوبہ خیبر پختونخواہ کے باجوڑ اور صوبہ بلوچستان کے قمر دین کاریز میں پاک افغان سرحد پر باڑ لگانے والوں اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا۔

بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ سیکورٹی فورسز کی جوابی کارروائی سے چھ عسکریت پسند ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔ تاہم یہ نہیں بتایا گیا کہ فائرنگ کے یہ واقعات کب پیش آئے۔

پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ افغانستان حکومت کے کنٹرول سے باہر علاقوں میں سے ملنے والی معاونت کا فائدہ اٹھا کر عسکریت پسندوں نے سرحد پر باڑ لگانے اور سرحدی چوکیوں کی تعمیر کے کام کو روکنے کے لیے یہ کارروائیاں کیں۔

فوج کا کہنا ہے کہ عسکریت پسندوں کے خلاف ہونے والی موثر کارروائیوں سے حاصل ہونے والی کامیابیوں کو برقرار رکھنے کے لیےمخالف قوتوں کی کارروائیوں کے باوجود پاک افغان سرحد پر باڑ لگانے اور سرحدی چوکیاں قائم کرنے کا کام جاری رہے گا۔

سرحد پر عسکریت پسندوں کی فائرنگ کے مبینہ واقعات ایک ایسے وقت پیش آئے جب گزشتہ ہفتے ہیافغانستان کے ایک اعلیٰ سطح کے وفد نے افغانستان کے قومی سلامتی کے مشیر حنیف اتمر کی قیادت میں پاکستان کا دورہ کیا اور پاکستانی حکام سے مختلف باہمی امور پر مشاورت کی اور اسلام آباد اور کابل نے دو طرفہ سیکورٹی تعاون سمیت مختلف ورکنگ گروپس جلد قائم کرنے پر اتفاق کیا تھا۔

افغان امور کے تجزیہ کار اے زیڈ ہلالی کا کہنا ہے کہ بعض شرپسند اور عسکریت پسند عناصر ایسی کارروائیوں سے پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں رخنہ اندازی کی کوشش کرتے رہتے ہیں اور جب تک انہیں روکا نہیں جاتا، تعلقات کو پائیدار بنیادوں پر استوار کرنا اسلام آباد اور کابل کے لیےایک چیلنج رہے گا۔

اتوار کو وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس معاملے کا حل اسلام آباد اور کابل کے تعاون اور افغان سرحد کی بہتر نگرانی سے ہی ممکن ہے۔

پاکستان نے پاک افغان سرحد پر عسکریت پسندوں اور اسمگلروں کی آزادانہ نقل و حرکت روکنے کے لیے باڑ لگانے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔

پاکستانی فوج کے بیان پر تاحال افغان حکومت کا کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے تاہم افغانستان باڑ کی تنصيب پر سخت نوعیت کے اعتراضات کرتا رہا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ یہ ایک ایسے علاقے میں لگائی جا رہی ہے جو اس کے بقول بین الاقوامی سرحد نہیں ہے اور اس کا تعین ہونا ابھی باقی ہے۔

اسلام آباد ان اعتراضات کو مسترد کرتا ہے اور اس کا موقف ہے کہ یہ دونوں ملکوں کے درمیان ایک مسلمہ بین الاقوامی سرحد ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG