رسائی کے لنکس

logo-print

پرواز ایم ایچ17: امریکہ کا مشترکہ ٹیم کی ابتدائی رپورٹ کا خیرمقدم


محکمہٴ خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ ’’اِس المناک دِن ہلاک ہونے والوں کے لواحقین کا رنج و غم دور کرنے کے لیے کچھ نہیں کیا جا سکتا، یہ اعلان اِس وحشیانہ حملے کے ذمہ داران کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کی جانب ایک قدم کا درجہ رکھتا ہے‘‘

امریکہ نے ملائیشیا ایئرلائنز کی پرواز ایم ایچ 17 کو مار گرانے کے بارے میں مشترکہ تفتیشی ٹیم کی ابتدائی رپورٹ کا خیر مقدم کیا ہے۔

محکمہٴ خارجہ کے ترجمان، جان کِربی نے بدھ کو جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا ہے کہ ٹیم کی جانب سے سامنے آنے والی رپورٹ کے نتائج سے وزیر خارجہ جان کیری کے بیان کی تصدیق ہوتی ہے، جو اُنھوں نےاِس المیئے کے بعد جاری کیا تھا۔

جان کیری نے اُس وقت کہا تھا کہ ایم ایچ 17 طیارہ روس سے لائے گئے زمین سے فضا میں مار کرنے والے بوک میزائل لگنے سے تباہ ہوا، جسے مشرقی یوکرین میں روس کی پشت پناہی والے علحیدگی پسندوں کے کنٹرول والے علاقے سے فائر کیا گیا۔

ٹیم اس نتیجے پر بھی پہنچی ہے کہ ’بوک‘ میزائل داغنے کا نظام واقعے سے قبل یوکرین کے علیحدگی پسندوں کے کنٹرول والے علاقے میں روس کی جانب سے لایا گیا، اور ایم ایچ 17کو مار گرائے جانے کے بعد اسے واپس روس منتقل کیا گیا۔

ترجمان نے کہا ہے کہ ’’اِس المناک دِن ہلاک ہونے والوں کے لواحقین کا رنج و غم دور کرنے کے لیے کچھ نہیں کیا جا سکتا، یہ اعلان اِس وحشیانہ حملے کے ذمہ داران کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کی جانب ایک قدم کا درجہ رکھتا ہے‘‘۔

جان کِربی نے کہا ہےکہ امریکہ تفتیش میں مدد دینے کے لیےمشترکہ تفتیشی ٹیم کے ساتھ کام کرنے پر تیار ہے۔

بیان میں دیگر ملکوں پر پختہ اعانت اور تعاون پر زور دیا گیا ہے، تاکہ ذمہ داران کو جوابدہ بنایا جاسکے۔

XS
SM
MD
LG